Committee Report of Committee No.18 for Local Governement

صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ شمال معربی سرحدی صوبہ ۔

                                                                      رپورٹ مجلس قائمہ نمبر 18برائے محکمہ بلدیات

رپورٹ

1ٴ-     میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات کے اہلکاروں کے ساتھ ا راکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے حوالہ کردہ مختلف امور قائمہ کمیٹی کے سپردکیے گئے تھے پرکمیٹی کی جانب سے پیش کرنے کا        شرف حاصل کرتا ہوں۔

2-     کمیٹی نے 4 اجلاس منعقد کئے اپنے اجلاسوں میں مذکورہ حوالہ کردہ امورپرغور کیا گیا جس میں حسب ذیل اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔

       -1     جناب عبدالاکبرخان صاحب،               ایم پی ااے/ چیئرمین

       -2     جناب بشیر احمد بلور صاحب،سینئر وزیر برائے بلدیات        ممبر بلحاظ عہدہ

       -3     سردار شمعون یار خان صاحب ،ایم پی اے                    ممبر

       4-     جناب شیر افغان خان صاحب،ایم پی اے                       ممبر

       -5     جناب فضل شکور صاحب، ایم پی اے                        ممبر

       -6     جناب محمد ظاہر شاہ صاحب، ایم پی اے                     ممبر

       -7     محترمہ ز بیدہ احسان صا حبہ، ایم پی اے                    ممبر

`      -8     محترمہ یاسمین نازلی جسیم صاحبہ،ایم پی اے                ممبر

       جناب عبدالاکبر خانرکن صوبائی اسمبلی محرک

-3    محرک نے اپنی تحریک التواء نمبر25 کے پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام میں جو خامیاں ہیں ان میں ترامیم کے سلسلے میںحکومت نے جو اقدامات کیےہیں اُن سےکمیٹی  کو آگاہ کیا جائے-

 -4جناب بشیر احمد بلور صاحب، وزیر بلدیات نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے دو سینئر وزراء، سابقہ چیف سیکرٹریوں اور سیکرٹری خزانہ، انتظامیہ اور بلدیات پر مشتمل کمیٹی تشکیلدی ہے- اُنہوں نے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کی ہیں جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دی ہیں-

 -5اُنہوں نے مزید کہا کہ31 دسمبر2009ء کو موجودہ بلدیاتی نظام ختم ہوجائے گا اور صوبائی حکومت یکم جنوری2010ء کو نئے نظام کے سلسلے میں آرڈیننسجاری کرے گی-

 -6جناب عبدالاکبر خان صاحب، ایم پی اے/ محرک نے وزیر بلدیات کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور مذکورہ تحریک التواء پر مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا-

              جناب پرویز احمد خان رکن صوبائی اسمبلی محرک

-7محرک نے اپنے سوال کی پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی کونسل نوشہرہ نے مالی سال2005-06ء میں مصری بانڈہ بائی پاس روڈ کیلئے     ستاسی(87) لاکھ روپے کی منظوری دی تھی مذکورہ سڑک پر مٹی اور روڑی بچھانے کا کام مکمل کیا گیا ہے لیکن تارکول تاحال نہیں ڈالا گیا – اُنہوں نے کہا کہ یہ جاری سکیم        تھی جس پر آٹھ(8)لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے باقی رقم خرچ نہیں کی گئی – اُنہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مذکورہ سڑک مکمل ہونے سے علاقے کے لوگوں کو موٹروے تک        رسائی میں آسانی ہوگی-

-8بالا صورت حال کی پیش نظر کمیٹی نے متفقہ طور پر سوال کو نمٹا دیا اور محکمہ کو سفارش کی کہ مذکورہ سکیم اگلے مالی سال کے اے – ڈی- پی میں شامل کرکے مکمل کی  جائے-

              (i)     جناب عبدالاکبر خان صاحب،        اراکین صوبائی اسمبلی             محرکین

              (ii)     جناب ملک قاسم خان صاحب،

              (iii)    سردار اورنگزیب خان نلوٹھ صاحب،

محرکین نے مشترکہ قرارداد نمبر100 سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ صوبے کے تمام سیکرٹریز یونین کونسل کے سروس سٹرکچر کو سرکاری ملازمین کی طرح سروس سٹرکچر  دیا جائے کیونکہ وہ گذشتہ 30سالوں سے ایک ہی گریڈ میں ملازمت کررہے ہیں-

-10 جناب ذکی اللہ صاحب ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ بلدیات نے کمیٹی کو بتایا کہ 2001ء سے پہلے سیکرٹری یونین کونسل ڈائریکٹر جنرل رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا حصہ تھے ان کو باقاعدہ ترقی ملتی تھی اور سلیکشن گریڈ بھی ملا کرتا تھا ان کا Basic سکیل 6اور سلیکشن گریڈ7تھا اور تحصیل لیول پر سپروائیزر کی پوسٹ پر ترقی  دی جاتی تھی اسکے علاوہ پلاننگ آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا کوٹہ بھی دیا گیا تھا -لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے ذریعے مذکورہ تمام نظام تحلیل کردیا گیا اور    صرف دوپوسٹیں سیکرٹری یونین کونسل اور نائب قاصد کی چھوڑی گئیں- اُنہوں نے بتایا کہ سیکرٹری بلدیات کے زیر نگرانی جس میں ایڈیشنل سیکرٹری( ریگولیشن) محکمہ اسٹبلیشمنٹ و خزانہ و دیگر اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسکی سفارشات کی روشنی میں محکمہ بلدیات نے بذریعہ سمری جناب وزیر اعلی صاحب کو تجویزج دی ہے کہحصیل یونین کونسل کی سطح پر یونین کونسل کی موجودہ آبادی کو منظر رکھتے ہوئے ان کو چار درجات میں تقسیم کیا جائے جس میں سیکرٹری یونین کونسل کو گریڈ 9تجویز کیا گیا  تھا نیز سیکرٹری اور نائب قاصد یونین کونسل کو لوکل کونسل میں ضم کیا جائے اور انکے لئے ترقی کے مواقع پیدا کرنے سپروائزر کی آسامی BPS-11 ٹی ایم اے میں اور پراجیکٹ آفیسرBPS-16 کی آسامی ضلعی سطح پرCreate کی جائے لیکن محکمہ خزانہ نے سیکرٹری یونین کونسل، نائب قاصد یونین کونسل کے لوکل کونسل سروس میں ضم ہونے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ سرکاری ملازمین کے زمرے میں آتے ہیں اور لوکل کونسل سروس سرکاری ملازمت نہیں-

-11کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کا پیسہ ٹی ایم اے کے دریعے ترقیاتی سکیموں پر خرچ کیا جارہا ہے ٹی ایم اے کے اکاونٹ نمبر4میں سارا پیسہ جمع ہوتا ہے اور   مجبوری کے تحت صوبائی حکومت ٹی ایم اے چلارہی ہے چونکہ ڈی ڈی اے سی ایکٹ ابھی تک منسوخ نہیں ہوا ہے جسکی وجہ سے تمام اراکین اسمبلی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوں ن نے مزید کہا کہ ڈی ڈی اے سی چیئرمین منتخب کرنے کا اختیار جناب وزیر اعلی صاحب کے پاس ہے اس سلسلے میں محکمہ بلدیات ہر ضلع کےلئے ڈی ڈی اے سی چیئرمین منتخب کرنے کے لئے ممبران کی لسٹ بنا کر وزیر اعلی صاحب سے منظوری کے لئے ارسال کریں کیونکہ ضلعی نظام حکومت دسمبر میں ختم    ہورہی ہے-

-12 جناب حفظ الرحمن صاحب، سیکرٹری محکمہ بلدیات نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی حکومت مکمل طورپر قانون سازی سے متفق ہے اور محکمہ نے اسکی اصولی طورپر یہ تجویز دی تھی کہ لوکل گورنمنٹ کے سلسلے میں جو بھی قانون سازی کرے وہ صوبائی اسمبلی کے ذریعے کرے – صوبائی کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دی ہے اور اسےوفاقی حکومت کو ارسال کیا گیا ہے کہ 31 دسمبر2009ء سے پہلے صدر پاکستان کی منظوری درکار ہے تاکہ اسے صوبائی اسمبلی میں متعارف کراسکیں- نیز اس نظام میں مزید اصلاحات کی جاسکیں اُنہوں نے مزید بتایا کہ اگر ممبران اسمبلی مناسب سمجھیں تو لوکل گورنمنٹ سسٹم ریفارمز پر اپنی تجاویز دیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مسائل پیدا ہوئے ہیں مثلا اکاونٹ4 کا طریقہ کار ہے صوبائی حکومت سے ضلعی حکومت کو جو پیسےtransfer ہوتے ہیں اسکو نئے نظام میں لائیں-

-13بالا صورت حال کے پیش نظر کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ یونین کونسل کے سیکر ٹریزکوگریڈ 9 دیا جائے۔

-14کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ محکمہ بلدیات نئے مجوزہ بلدیاتی نظام اور طریقہ کار کی تفصیل ممبران کمیٹی کو پیش کریں تاکہ ممبران صاحبان کو تجاویز/    سفارشات مرتب کرنے میں آسانی ہو-

                                                 عبدالاکبر خان

                                           چیئرمین مجلس قائمہ نمبر18حکمہ بلدیات