Committee Report regarding the Question No.87 Report Presented in the House on 15-03-2010

صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ خیبر پختونخوا

رپورٹ

 مجلس قائمہ نمبر 7 برائے محکمہ مواصلات  وتعمیرات

    میں،چیئرمین مجلس قائمہ نمبر7 برائے محکمہ مواصلات و تعمیرات اسمبلی کی جانب سے حوالہ کردہسوال  نمبر 87منجانب ڈاکٹرذاکراللہ خان صاحب ،ایم پی اے، سوال نمبر 208 منجانب جناب بادشاہ صالح صاحب ،ایم پی اے، سوال نمبر156منجانب جناب اسراراللہ خان گنڈا پور صاحب، ایم پی اے،سوال نمبر176منجانب جناب محمد علی شاہ باچا صاحب ، ایم پی اے اور ازخودنوٹس کے طور پر لئے گئے امور پر رپورٹ پیش کرنے کاشرف حاصل کرتاہوں ۔

-2    کمیٹی نے اپنے منعقدہ اجلاسوں میں مذکورہ بالا امور پرغور کیا جس میں درج ذیل اراکین کمیٹی نے شرکت کی: ۔

   -1    سیدقلب حسن صاحب ،ایم پی اے              ممبر

   -2 جناب عبدالستارخان صاحب ، ایم پی اے           ممبر

   -3 جناب وقاراحمد خان صاحب ، ایم پی اے          ممبر

   -4 ڈاکٹراقبال دین صاحب ، ایم پی اے              ممبر

   -5 جناب فضل اللہ صاحب ، ایم پی اے              ممبر

   -6 ڈاکٹرذاکراللہ خان صاحب، ایم پی اے              ممبر

   -7 جناب سکندرعرفان صاحب ، ایم پی اے            ممبر

   -8 محترمہ نگہت یاسمین اورکزئی صاحبہ ، ایم پی اے    ممبر

ّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّ_______________________________________________________________________

    ڈاکٹر ذاکراللہ خان صا حب    ایم پی اے/محرک  سوال نمبر 87(لف ضمیمہ الف)

-3 محرک نےاپنے سوال نمبر87 کے پس منظر کے بارے میں بتایا کہ ان کے حلقے  میں زیر تعمیر بامبولئی میلگا روڈ کی لمبائی 7 کلومٹر ہے اوریہ سڑک 1997-98 کے اے ڈی پی میں شامل تھی  اس میں ایک کازوے بھی شامل تھی۔ جس کے دونوں اطراف  کی دیواریں مکمل کی گئی ہیں مگر ان کےاوپرslabsابھی تک تعمیر نہیں کئے گئے ہے جبکہ30فیصد ادائیگی ہو چکی ہے حالانکہ اس سلسلے میں سابق وزیراعلٰی صاحب نے بھی احکامات جاری کئے تھے کہ مذ کورہ سکیم کو2007-08ءکےسالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے  لیکن تاحال اُس پر کوئی عملدارآمد نہیں ہوا۔لہذا محکمہ اس کی وضاحت کرے۔

-4 سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات نے بتایا کہ اُس وقت حکومت کی پالیسی تھی کہ جس سیکم کے لیے 50فیصدادائیگی ہو چکی ہو اُسے اے ڈی پی میں شامل کیاجائے  اور جس کے لئے 50فیصد سے کم ادائیگی ہو چکی  ہو اسے اے ڈی پی میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اُس وقت صوبے کی مالی حالت کمزور تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ اے ڈی پی میں Incomplete Schemes Contractor Liabilities  کے نام سے  ایک سکیم موجودہے اورمذکورہ کام کو  اس سکیم کے تحت مکمل کر لیا جائےگا۔

-5 بالا صورت حال کے پیش نظر اور محرک کے اطمینان پر کمیٹی نے متفقہ طور پر سوال کو نمٹایا اور سفارش کی کہ مذکورہ سکیم کو موجودہ مالی سال 2009-10کے دوران مکمل کیا جائے۔

______________________________________________________________________

جناب بادشاہ صالح صاحب ،     ایم پی اے/محرک سوال نمبر 208(لف ضمیمہ ب)

6۔  محرک نے اپنے سوال نمبر 208 کے پس منظر کے بارے میں بتایا کہ پہلے سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے روڈ گینگ /قلی ہوا کرتے تھے لیکن ان کی اسامیوں کو کافی عرصہ سے ختم کرنے کے بعد دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں روزبروز خراب ہوتی گئیں جوکہ اب استعمال کے قابل نہیں ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ آسامیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

7۔   سیکرٹری  محکمہ مواصلات و تعمیرات نے اس ضمن میں بتایا کہ چونکہ قلیوں کی آسامیاں1998ءمیں ختم کردی گئی تھیں جس کی وجہ سے سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہو گئی ہے اور وہ روڈ گینگ /قلیوں کی آسامیوں کودوبارہ بحالی کے حق میں ہے۔لیکن اس سلسلے میں منظوری لینے کے لئے جناب وزیر اعلٰی صاحب کو سمری بھیجی جائے گی۔

-8 بالاصورت حال کے پیش نظر کمیٹی نے سوال کو نمٹاتے ہوئے متفقہ طور پر سفارش کی کہ صوبے میں روڈز کی ابتر حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کی تعمیرپر اُٹھنے والے خطیررقم کی عدم دستیابی کے باعث روڈ گینگ /قلی بحال کئے جائیں تاکہ سڑکوں کی دیکھ بھال کے ضمن میں کم خرچ بالانیشن فارمولاپرعمل ہو نیز بے روزگاری پر بھی قابو پایا جاسکے۔

______________________________________________________________________

      جناب اسراراللہ خان گنڈاپور صاحب ،   ایم پی  اے/محرک سوال نمبر 156(لف ضمیمہ ج)

-9 محرک نے اپنے سوال نمبر 156 کے ضمن میں بتا یا کہ انہوں نے سوال میں جو مسئلہ اٹھایا تھا اور اس میں جوآفیسر ملوث تھا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد وفات پا چکےہیں لہذا مذکورہ سوال پر مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے ۔

-10 کمیٹی نے بالاصورتحال کے پیش نظر محرک کے سوال نمبر 156پر مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیاجو بغرض اطلاع ایوان میں پیش کیا جاتا ہے۔

_____________________________________________________________________

جناب محمد علی شاہ باچہ صاحب ،    ایم پی  اے/محرک   سوال نمبر 176(لف ضمیمہ ج)

-11 محرک نے اپنے سوال نمبر 176 کے ضمن میں  بتایا کہ وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ایم اینڈ آر فنڈ نئی سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی گئی ہے چونکہ مذکورہ فنڈ خرچ کرنے والےافسران اب موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے اب یہ مسئلہ اہمیت کھو چکا ہے اور تجویز پیش کی کہ آئندہ کے لئے ایم اینڈ آر فنڈ مرمت کے کاموں پر خرچ کیا جائے اور اپنے سوال پر مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

-12 بالا صورت حال کے پیش نظر اور ٕمحرک کے اطمنان پر کمیٹی نے  سوال نمبر176 کو نمٹاتے ہوئے متفقہ طور پر سفارش کی کہ چونکہ ضلعی حکومتیں ختم ہوچکی ہیں اور آئندہ ایم اینڈ آر فنڈ اکاؤنٹ ivکی بجائے محکمہ کو براہ راست جاری کیا جائے  تاکہ مرمت کے کاموں پر بروقت خرچ کیا جاسکےنیز مذکورہ فنڈ  متعلقہ ایم پی ایز کی مشاورت سے پرانے عمارات اور سڑکوں کی مرمت پر خرچ کیا جائے۔

______________________________________________________________________

    ازخود نوٹس 

-13 سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات نے بتایا کہ محکمہ کا کافی سٹاف ضلعی حکومتوں کے پاس چلاگیا ہے جبکہ کام اسی طرح موجود ہے جس کا یقیناًاثرکا ر کردگی پر پڑا ہے خاص کر انجینئر نگ سائیڈ پر محکمہ کی کارکردگی بُری طرح متاثرہو رہی ہےاور لوکل گورنمنٹ آرڈیننس،2001ءکے تحت اب  محکمہ ضلعی حکومتوں سے اپنا سٹاف واپس  نہیں بُلا  سکتا ۔ لہذا کمیٹی اس ضمن میں ان کی رہنمائی کرے۔

 -14 بالا صورت حال کے پیش نظر کمیٹی نے سفارش کی کہ محکمہ مواصلات وتعمیرات میں کئی سالوں سے تعینات ڈگری ہولڈر سب انجنیئرز جنہوں نے پیلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا ہو ان کو پروموٹ کیا جائے ۔اگر اس طرح ممکن نہ ہو تو جس طرح محکمہ ایری گیشن اور پیلک ہیلتھ انجینئر نگ میں تعینات سب انجنیئر ز کو پرموٹ کرنے کیلئے10 فیصد کوٹہ مختص ہے۔ محکمہ  مواصلات  وتعمیرات میں بھی5فیصد کوٹہ کو 10فیصد تک بڑھادیا جائے۔

_____________________________________________________________________

    از خود نوٹس

-15 کمیٹی کے از خود نوٹس کے پس منظر کے بارے میں ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ مواصلات وتعمیرات مانسہرہ نے بتایاکہ حویلیاں اور راحت آباد کے درمیان 272کنال قیمتی آراضی پر این ایچ اے نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے ۔لہذا مذکورہ زمین کو واگزار کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

-16 بالاصورتحال کے پیش نظر کمیٹی نے ازخود نوٹس کو نمٹاتے ہوئے متفقہ طور پر سفارش کی کہ  صوبائی حکومت مذکورہ  آراضی کو فوری طور پر واگزار کرکے محکمہ کے حوالے کرے ۔

-17 کمیٹی متفقہ طور پر معزز ایوان سے سفارش کرتی ہے کہ پیراگراف نمبر14,12,8,5اور16میں دی گئی سفارشات کو منظور کیا  جائے۔

                                         (پرویز احمد خان)

                                 ایم پی اے/چیئرمین

                          مجلس قائمہ نمبر7برائے محکمہ مواصلات وتعمیرات