Report adopted on 7-5-2012 (session 25)

Report Committee No.27 Adopted on 7th-05-2012

 

صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ خیبر پختونخوا

رپورٹ

مجلس قائمہ نمبر27برائے محکمہ کھیل،سیاحت ،آثار قدیمہ و امورنوجوانان۔ 

میں، چیئرپرسن مجلس قائمہ نمبر 27برائے محکمہ کھیل ،سیاحت ،آثار قدیمہ وامور نوجوانان اسمبلی کی جانب سے حوالہ کردہ  سوال نمبر 100منجانب نگہت  یاسمین اورکزئی صاحبہ ، ایم پی اےجو مورخہ 8اگست 2008کو مجلس قائمہ کے حوالہ کیا گیا تھا, پر رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کا شرف حاصل کرتی ہوں۔

کمیٹی نے اپنے 13منعقدہ اجلاسوں میں مذکورہ بالا سوال میں اُٹھائے گئے معاملہ پر غور کیا جس میں درج ذیل اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی:۔

-1                        جناب سید رحیم صاحب، ایم پی اے                                                                                                ممبر

-2                        جناب شکیل بشیر عمر زئی صاحب، ایم پی اے                                                        ممبر

-3                        جناب محمد جاوید عباسی صاحب، ایم پی اے                                                                 ممبر

-4                        مولوی عبید اللہ  صاحب، ایم پی اے                                                                                                   ممبر

-5                        جناب نصیر محمد میداد خیل صاحب، ایم پی اے                                                              ممبر

-6                        سردار شمعون یار خان صاحب،ایم پی اے                                                                                ممبر

-7                        محترمہ زرقا صاحبہ، ایم پی اے                                                                                                                ممبر

-8                        محترمہ سعیدہ بتول ناصر صاحبہ،ایم پی اے                                                                         ممبر

_________________________________________________________________

محترمہ نگہت یاسمین اورکزئی صاحبہ ،                     ایم پی اے/محرکہ                                 سوال نمبر 100(لف ضمیمہ الف)

-2                        محرکہ نے اپنے سوال نمبر 100 کے پس منظر میں بتایا کہ  محکمہ نے ان کے سوال کے جواب میں تحریر کیا ہے کہ  صوبائی بجٹ میں ہر سال ہر ضلع کے لئے 2فی صد فنڈ کھیلوں کے فروغ و ترقی کے لئے مختص کیا جاتا ہے ۔ البتہ جناب وزیر اعلٰی صاحب کے احکامات اور وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے مطابق تمام ضلعی حکومتیں سالانہ بنیاد پر اپنے کل بجٹ میں سے2فیصد رقم کھیلوں کے فروغ و ترقی کے لئے مختص کرنے کی پابند ہیں۔

-3                        انہوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دو سال ہوگئے ہیں کہ اسمبلی نے ان کا سوال مجلس قائمہ کے حوالہ کیا ہے لیکن تاحال ضلعی حکومتیں 2فیصد مختص شدہ رقم کھیلوں کے فروغ کیلئے جاری کرنے میں ناکام رہی ہیں نیز ضلعی سطح پر مختص شدہ رقم استعمال کرنے کیلئے جو انتظامی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اس میں متعلقہ ضلع سے کسی بھی ممبر صوبائی اسمبلی کو شامل نہیں کیا جاتامزید برآں ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ضلعی کھیل آفسران متعلقہ ضلعی رابطہ آفیسر سے اپنا مختص شدہ فنڈ نہیں مانگ سکتا ۔

-4                        اس موقع پرسید عاقل شاہ صاحب وزیر برائے کھیل،سیاحت ،آثار قدیمہ وامور نوجوانان  نے  بتایا کہ ضلعی سطح پر  کھیلوں کے فروغ کے لئے  مختص شدہ 2فیصد فنڈگزشتہ تین سالوں کے دوران کسی بھی ضلع کو جاری نہیں کیا گیا ہے۔اور یہ  تمام پیسے ضلعی رابطہ آفیسرزکے اکاؤنٹ میں جمع ہو رہے ہیں اور اب یہ محکمہ بلدیات کے دائرہ اختیار میں ہےاور اس پر بینک کی طرف سے منافع بھی مل رہا ہے  جب سے ضلعی حکومتیں ختم ہو گئی ہیں تاحال کھیلوں   کے فروغ کے لئے مختص شدہ 2فیصد رقم کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کس مدٴ میں جمع ہے اور  کہاں پر استعمال کی جارہی ہے ۔

-5                        جناب اعظم خان صاحب، سیکرٹری،محکمہ کھیل،سیاحت،آثار قدیمہ وامور نوجوانان نے بتایا کہ حقیقت میں کھیلوں کیلئے مختص شدہ2فیصد رقم  اس مد میں نہیں لگتی  کیونکہ ضلعی رابطہ آفیسرزکی فوقیت کے دیگر کام بھی ہوتے ہیں اس کے علاوہ ضلعی کھیل افسر ضلع رابطہ آفیسر سے مذکورہ فنڈ مانگ بھی نہیں سکتا  کیونکہ وہ ضلع رابطہ آفیسرزکا ماتحت اور جونیئر ہوتا ہے تاہم محکمہ نے تمام ضلعی رابطہ افسران کو ہدایات جاری  کی  ہیں کہ اگر مذکورہ فنڈ کسی اور مد میں استعمال کیا گیا تو یہ رقم ان کی تنخواہوں سے کاٹی جائے گی لیکن اس کے باوجود مذکورہ فنڈ تمام اضلاع میں بر وقت جاری نہیں  کیا جاتا ۔

-6                        انہوں نے مزید  بتایا کہ اس ضمن میں عمل درآمد مختلف وجوہات کی بناء پر التوا کا شکار ہے جس میں سیاسی عناصر بھی شامل ہیں ایک ماہ قبل جناب وزیر اعلٰی صاحب کو سمری ارسال کی گئی تھی جس میں 2فیصد بجٹ مختص کرنے اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کی گئی تھی کیونکہ گزشتہ دور حکومت میں اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار مقرر نہیں تھا اور مذکورہ فنڈ کو دیگر مدات میں بھی استعمال کیا جاتا تھا ۔لہذا تجویز دی گئی کہ اس فنڈ کے ضمن میں ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کے نام  پرمشترکہ اکاؤنٹ کھولا جائے اور اس فنڈ کی منظوری کے لئے سپورٹس اور سپورٹس ایسوسی ایشن کی کمیٹی بنائی جائے جو اس فنڈ کی منظوری دے۔

-7                        کمیٹی کے استفسار پر جناب ذکی اللہ صاحب ،ایڈیشنل سیکرٹری   محکمہ بلدیات نے  بتایا کہ جہاں تک بجٹ کا تعلق ہے۔محکمہ صرف منظوری  دیتا ہے ۔ باقی بجٹ محکمہ خزانہ ہر ضلع کوجاری کرتا ہے ۔اس ضمن میں جناب سپیکر صاحب  کی ہدایت کے مطابق تمام اضلاع سے  کھیلوں کے فروغ  کے لئے منظور شدہ 2فیصد فنڈ کی تفصیل  محکمہ نے تمام  ضلعی رابطہ افسران سے  حاصل کیں ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مذکورہ فنڈ کہیں بھی غلط استعمال نہیں ہو ا ہے۔اور تمام ضلعی رابطہ افسران کو ہدایات جاری کی گیئں ہیں کہ مذکورہ فنڈ کو بروقت جاری کیا جائے تاکہ ضلعی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

-8                              سید عاقل شاہ صاحب، وزیر برائے کھیل وسیاحت  نے بتایا  کہ وہ محکمہ بلدیات کے جواب سے بالکل اتفاق نہیں کرتے کیونکہ جب سے ضلعی اسمبلیاں ختم ہوئی ہیں اور DCOsکو اختیار ات منتقل  ہوئے ہیں اسوقت سے لیکر تاحال کھیلوں کے فروغ کے لئے 2فیصد مختص شدہ فنڈ  کا ذمہ دار محکمہ بلدیات ہے اور وہ مذکورہ عرصہ کے دوران مختص شدہ فنڈ کی تفصیل فراہم کرنے کا بھی پابند ہے نیز اگر مذکورہ فنڈ تاحال ان کے پاس  موجود ہے تو بمعہ سود محکمہ کھیل کو ادا کرنا ہوگا اور اگر منقضی(Lapse)ہوا ہے تو اس کا بھی محکمہ بلدیات ذمہ دار ہے کیونکہ اس میں ان کے محکمہ کی کوئی غلطی نہیں ۔انہوں نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ تمام DCOs کو چھٹی ارسال کرے کہ موجودہ اور سابقہ ادوار کا فنڈ فوراََ جاری کیا جائے نیز آئندہ اجلاس میں سینئر وزیر برائے بلدیات کو مدعو کیا جائے تاکہ مذکورہ فنڈ کے جاری کئےجانے کے ضمن میں  کوئی طریقہ کار طے کیا جاسکے۔

-9      محترمہ نگہت یاسمین  اورکزئی صاحبہ ، ایم پی اے/محرکہ نے بتا یا کہ اگر مذکورہ عرصہ کا فنڈ تاحال ضلعوں میں موجود ہے تو وہ صرف کھیلوں کے فروغ وترقی پر خرچ کیاجا نا چاہے کیونکہ اس فنڈ پر محکمہ بلدیات کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ  اس کو کسی اور مد میں استعمال کرے۔

-10            جناب ذکی اللہ صاحب ،ایڈیشنل سیکرٹری، محکمہ بلدیات  نے کمیٹی کو بتایا کہ جب بجٹ صوبائی اسمبلی پاس کر لیتی ہے تو پھر محکمہ خزانہ ہر محکمہ کو فنڈ جاری کرتا ہے اور جو فنڈ استعمال نہیں ہوتا وہ surrender کیاجاتا ہے ضلعی سطح پرڈی سی اوPrincipal Accounting Officer ہوتا ہے اور یہ اس کا صوابدیدی اختیار ہے کہ فنڈ کو جہاں چاہے استعمال کرے سیکرٹری ، محکمہ بلدیات کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں اس وقت محکمہ کے پاس کوئیPending Fundموجود نہیں۔

-11   اس موقع پرسید عاقل شاہ صاحب، وزیر برائے کھیل وسیاحت  نے کہا کہ سینئر وزیر برائے بلدیات نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ مذکورہ عرصہ کا فنڈ محکمہ کھیل کو جلد از جلد جاری کر دیا جائے گا۔

-12            جناب اعظم خان صاحب ، سیکرٹری ، محکمہ کھیل وسیاحت نے  بتایا کہ مذکورہ مختص شدہ فنڈ ضلعی کھیل افسر کے دستخط کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا اور یہ ضلعی رابطہ آفیسر کی صوابدید ہے کہ وہ کسی بھی مد کے لئے فنڈ جاری کرے ۔بحیثیت  سنیئر  ضلعی کھیل آفسر اس کو پابند نہیں کرسکتا کہ کھیلوں کے فروغ کے لئے مختص شدہ فنڈ وہ لازمی طور پر جاری کرےنیز مذکورہ فنڈ سکولوں اور کالجوں میں منعقد کھیلوں کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

13-            جناب اجمل خان صاحب،ضلعی رابطہ آفیسر،چارسدہ نے بتایا کہسال10-2009کے دوران کھیلوں کے فروغ کیلئے دو فیصد کے حساب سے کل -/777000روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جو مختلف کھیلوں کے سرگرمیوں پر خرچ کی گئی  اسی طرحسال11-2010کے دوران کل -/923000روپے مختص کئے  گئے  لیکن گزشتہ سیلاب کی وجہ سے استعمال نہیں ہوئے اور تاحال مذکورہ رقم کھیلوں کے فروغ کے لئے اس مد میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہسال12-2011کے لئے تا حال دو فیصد فنڈ مختص نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ترقیاتی فنڈ تاحال اضلاع کو جاری نہیں کیا گیا ۔نیز مذکورہ فنڈ جاری کرنے میں تاخیر اس لئے ہو جاتی ہے۔ کیونکہ صوبہ سے اضلاع کو فنڈ تاخیر سے جاری کیا جاتا ہے۔

-14            جناب منورخان صاحب،ضلعی کھیل افسر ،چارسدہ نے مجلس قائمہ کا شکریہ ادا کیا کہ اُس نے اِس طرف خصوصی توجہ دی اور متعلقہ ضلعی رابطہ آفیسر کا اس ضمن میں تعاون کو سراہا اور  بتایا کہسال10-2009میں کھیلوں کے فروغ کے لئے جو رقم مختص کی گئی تھی اس کےلئے اُنہوں نے باقاعدہ طور پر کھیلوں کے انعقاد کے لئے کیلنڈر بنا کر ڈائریکٹریٹ سے منظوری لی اور منظور شدہ کیلنڈر کے مطابق مختلف کھیلوں کا انعقاد کیا جس کی تفصیل اُنہوں کمیٹی میں پیش کی۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ فنڈ کے لئے بینک میں جوائنٹ اکاؤنٹ بھی کھولا گیا ہے جس کی تصدیق شدہ کاپی اُنہوں نے کمیٹی میں پیش کی۔ اُنہوں نےمزید بتایا کہسال11-2010کے دوران کھیلوں کے فروغ کےلئے دو فیصد رقم مختص کی گئی تھی اور اس کےلئے کیلنڈر بھی تیار کیا گیا تھا لیکن سیلاب کی وجہ سے کھیلوں کی کوئی سرگرمی منعقد نہیں کی جا سکی  کیونکہ تمام میدان اور سکول متاثرین سیلاب کی وجہ سے بند تھے۔

15-            جناب سید رحیم صاحب،ایم پی اے کے سوال کے جواب میں جناب اجمل خان صاحب ، ضلعی رابطہ آفیسر ، چارسدہ نے  بتایا کہ سال11-2010کے دوران جو رقم کھیلوں کے فروغ کے لئے مختص کی گئی تھی وہ جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود ہے اور منقضی(lapse)نہیں ہوئی  ہے اور اسی مد میں استعمال کی جائے گی لیکن محکمہ خزانہ فنڈ ایک قسط میں نہیں بلکہ چار قسطوں میں جاری کرتا ہے جس سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں نیز دوفیصد فنڈ انتہائی کم ہے کمیٹی اس رقم کو بڑھانے کے لئے سفارش کرے تاکہ کھیلوں کی سرگرمیاں بہتر انداز میں ہوسکیں۔

16-              جناب محمد سُلیمان صاحب، ضلعی کھیل آفیسر ، نوشہرہ نے  بتایا کہ سال10-2009کے دوران کھیلوں کے فروغ کے لئے دو فیصد کے حساب سے -/540000روپے جبکہ سال11-2010کے دوران -/605000روپے مختص کئے گئے تھے کیونکہ ضلع نوشہرہ میں محکمہ کے پاس کھیلوں کے انعقاد کےلئے کوئی میدان موجود نہیں ہے ۔ صرف کنٹونمٹ بورڈ کے علاقہ میں دو گراونڈ ہیں جن کی حالت پہلے کافی خراب تھی اور وہاں پر کھیلوں کا انعقاد نہیں کیا جاسکتا تھالیکن حال ہی میں اُنہیں ٹھیک کیا گیا ہے ۔جس کی وجہ سے اُنہوں نے رسالپور میں فٹ بال کا ٹورنامنٹ منعقد کیا جس پر تقریباً40ہزار روپے خرچ کئے گئے اور باقی تقریباً-/1104000روپے جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود ہیں جس کی کاپی اُنہوں نے کمیٹی میں پیش کی۔ نیز فٹ بال ٹورنامنٹ رمضان المبارک کی وجہ سے فی الحال روک دیا گیا ہے اور رمضان کے بعد دوبارہ سیمی فائنل اور فائنل کے میچ منعقد کئے جائینگے۔

17-            کمیٹی نے ضلعی کھیل آفیسر، نوشہرہ کی طرف سے پیش کردہ جوائنٹ اکاؤنٹ کی تفصیل کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے محسوس کیا کہ اکاؤنٹ کے ٹائٹل سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ جوائنٹ اکاؤنٹ ہے اور محکمہ کو ہدایت کی کہ دوبارہ مذکورہ فنڈ کے لئے بینک میں جوائنٹ اکاؤنٹ کھولا جائے جس کے ٹائٹل میں واضح جوائنٹ اکاؤنٹ تحریر ہو۔

18-            جناب واحدالرحمن صاحب ، ڈسٹرکٹ کو آرڈینشن آفیسر ،کوہاٹ نے 2005-06سے لیکر2009-10تک ضلعی فنڈ میں سے دو فیصد فنڈ کھیلوں کے فروغ  کے لئے مختص شدہ رقم کی تفصیل کمیٹی میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دیگر کھیلوں کے  ساتھ کرکٹ ایسوسی ایشنوں کی بھی امداد دے رہے ہیں نیز سول سکوائش سپورٹس ،کوہاٹ کے لئے بھی کھیلوں کا سامان خریدنے کے لئے ضلعی سطح پر سپورٹس کمیٹی بنائی گئی ہے اور وہ خود اس کی نگرانی کرتے ہیں جس میں ضلعی کھیل افسر اور سیکرٹری ، محکمہ کھیل بھی شامل ہیں اور جو سامان خریدا جاتا ہے اس کے لئے باقاعدہ طور پر اخبارات میں ٹینڈر مشتہر کئے جاتے ہیں۔

19-            صاحبزادہ محمد انیس صاحب، ضلعی رابطہ آفیسر ،پشاور نے بتایا کہ کھیلوں کے ترقی وفروغ کے لئے جو دو فیصد بجٹ میں مختص کیا جاتا ہے اس میں ایک فیصد سول ڈیفنس کے لئے ہے گزشتہ سال دو فیصد کے حساب سے کئی گنا زیادہ رقم کھیلوں کی ترقی وفروغ کے لئے خرچ کی گئی ہیں  اورموجودہ مالی سال میں بھی کھیلوں کی ترقی وفروغ کے لئے فنڈ مختص کیا گیا ہے۔

-20   جناب عالمزیب صاحب، ڈی ڈی او ،فنانس، پشاور نے  بتایا کہ صوبائی حکومت جو رقم ضلعی اکاؤنٹ IVمیں منتقل کر دیتی ہے وہ منقضی (lapse)نہیں ہوتی اورسال10-2009کے دوران کھیلوں کے فروغ کیلئے مختص شدہ دو فیصد کے دو کواٹر کی رقم واپڈا کے بقایاجات میں ادا کی  گئی جبکہ 11-2010کے دوران دو فیصد کے حساب سے1.7ملین روپے مختص کئے گئے  لیکن تا حال جاری نہیں کئے گئے اوروہ محکمہ کے پاس موجود ہیں نیز دو فیصد رقم کے علاوہ بھی کھیلوں کے فروغ کیلئے ضرورت کے مطابق رقم فراہم کی جا سکتی ہے۔

-21            ارباب اسد حیات صاحب ، ضلعی کھیل آفیسر ، پشاور نے بتایا کہ سال10-2009کے دوران دو فیصد کے حساب سے کل 17لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے لیکن اس وقت کےضلعی رابطہ آفیسر کی ہدایت کے مطابق 5لاکھ روپے ضلعی کھیل آفیسر جبکہ باقی رقم ناظم کو کھیلوں کے فروغ کیلئے جاری کی گئی ۔ محکمہ نے مذکورہ رقم سے 9ٹورنامنٹ منعقد کئے جس میں والی بال ، ٹیبل ٹینس ، ریسلنگ ، سوئمنگ ، سکواش ، بیس بال ، باکسنگ اور باسکٹ بال شامل ہیں اور کل 526کھلاڑیوں نے حصہ لیا جبکہ سال2010-11کے دوران کل 6لاکھ روپے جاری کئے گئے جس سے 11مختلف کھیلوں کے ٹورنامنٹ منعقد کئے گئے جس میں تقریباً550کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ 13جولائی 2011کو بینک میں جوائنٹ اکاؤنٹ کھولا گیا ہے۔ جس میں کھیلوں کے فروغ کےلئے دو فیصد مختص شدہ رقم آئندہ کےلئے جمع کی جائے گی۔

-22            انجینئر خان زیب صاحب ، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس نے بتایا کہ محکمہ نے 25مئی 2011ء کو دو نوٹیفکیشنز جاری کئے ہیں جس کے تحت صوبائی اور ضلعی سطح پر کھیلوں کی نگرانی کے لئے درج ذیل افراد پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی:۔

                                                                                                صوبائی سطح پر کمیٹی

                                                -1                        ڈائریکٹر جنرل ، سپورٹس ،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                                                                                                                                          چیئرمین

                                                -2                        جنرل سیکرٹری ،اولمپک ایسوسی ا یشن ،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                                                                                                     ممبر

                                                -3                        صدر ،سائیکلنگ ایسوسی ایشن،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                                         ممبر

                                                -4                        جنرل سیکرٹری،بیس بال ایسوسی ایشن،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                ممبر

                                                -5                        جنرل سیکرٹری ،کبڈی ایسوسی ایشن،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                        ممبر

                                                -6                        جنرل سیکرٹری ،ہاکی ایسوسی ایشن ،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                            ممبر

                                                -7                        جنرل سیکرٹری ،والی بال ایسوسی ایشن ،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                ممبر

                                                -8                        جنرل سیکرٹری ،سکواش ایسوسی ایشن ،خیبر پختونخوا                                                                                                                                                                                                                                    ممبر

                                                -9                        ڈائریکٹر (آپریشن)/ڈائریکٹر جنرل ،سپورٹس، خیبر پختونخوا                                                                                                                                                                                                سیکرٹری/کنویئنر

                                                                                                ضلعی سطح پر کمیٹی

                                                -1                        ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     چیئرمین

                                                -2                        ایکزیکٹیو ڈسٹرکٹ آفیسر                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                ممبر

                                                -3                        تمام جنرل سیکرٹریز، ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن اور                                                                                                                                                                                                                               ممبر

صوبائی   سپورٹس  ایسوسی ایشن کے ممبر

                                                -4                        ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        سیکرٹری/کنویئنر

-23            انہوں نےمزید بتایا کہ ضلعی کمیٹی سالانہ کھیل منعقد کرانے کا ایک کلینڈر بنائے گی کہ فلاں تاریخ اور مہینے کو فلاں کھیل/میلوں کی دیکھ بھال کرے گی کہ آیا تمام پیسے منظوری کے بعد سالانہ کلینڈر کے مطابق استعمال ہورہے ہیں یا نہیں اور تمام اضلاع میں سالانہ تیار شدہ کھیل کے کلینڈر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا کو ارسال کریئنگے۔

سفارش

-24  کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ:۔

(i)       ضلعی رابطہ آفسران کھیلوں کے فروغ کےلئے دو فیصد مختص شدہ فنڈ کو ستمبر کے مہینے میں جاری کریں تاکہ کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

                                                (ii)                        ضلعی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں میں لڑکیوں کو بھی شامل کیا جائے اور ان کیلئے علٰحیدہ کھیلوں کا انعقاد کیا جائے۔

                                                (iii)                   کھیلوں کے ترقی و فروغ کیلئے ضلعی فنڈ میں سے دو (2) فیصد مختص شدہ فنڈ کو بڑھا کرچار (4) فیصد کیا           جائے۔

-25            کمیٹی متفقہ طور پر معزز ایوان سے سفارش کرتی ہے کہ پیراگراف نمبر 24 میں درج سفارشات کو منظورکریں۔

(شگفتہ ملک )

ایم پی اے/چیئرپرسن

مجلس قائمہ نمبر 27برائے محکمہ کھیل ،سیاحت ،آثار قدیمہ وامور نوجوانان