Report of Elementary and Secondary Education Committee No.26

Report of Elementary and Secondary Education Committee No.26

 

صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ صوبہ سرحد

 

 

رپورٹ

 

 

 

 

مجلس قائمہ نمبر 26برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم درج ذیل اراکین پر مشتمل قاعدہ 193کے تحت مورخہ 20اگست 2008ء کو تشکیل دی گئی۔

 

 

(1)     جناب مختیار علی ایڈوکیٹ صاحب،                       ایم پی اے/ چیئر مین

 

 

(2)     وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم                                     ممبر بلحاظ عہدہ

 

 

(3)     جناب شکیل بشیر عمر زئی صاحب،                     ایم پی اے/ممبر

 

 

(4)     جناب شاہ حسین صاحب،                                    ایم پی اے/ممبر

 

 

(5)     جناب سکندر حیات خان شیر پاوٴ صاحب              ایم پی اے/ممبر

 

 

(6)     جناب محمد ظاہر شاہ صاحب،                            ایم پی اے/ممبر

 

 

(7)     سردار اور نگزیب انلوٹھ صاحب،                      ایم پی اے/ ممبر

 

 

(8)     جناب محمد انور خان ایڈوکیٹ صاحب             , ایم پی اے /ممبر

 

 

(9)     محترمہ منور سلطانہ صاحبہ،                          ایم پی اے /ممبر

 

 

(10)    محتر مہ یاسمین ضیاء صاحبہ،                      ایم پی اے /ممبر

 

 

-2     ابتدائیہ-:

 

 

مذکورہ مجلس قائمہ نے اب تک دو اجلاس منعقد کئے جس میں منعقد ہ اجلاس مورخہ 24دسمبر2008ء میں ایگز یکٹیو ڈسٹرکٹ آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سے متعلق اساتذہ کی بھرتیوں میں بے قاعدگی کے بارے میں سوال نمبر31منجانب جناب اسرار اللہ خان گنڈا پور صاحب، ایم پی اے پر غور کیا جو کہ مورخہ19اگست2008ء کو مجلس قائمہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

 

 

-3     جنا اسرار اللہ خان گنڈا پور صاحب، ایم پی اے نے اجلاس میں بحیثیت محرک شرکت کی۔

 

 

-4     مذکورہ اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم صوبہ سرحد کے درجہ ذیل نمائندوں نے شرکت کی۔

 

 

(1)     جناب محمد عارفین صاحب،                 سیکرٹری

 

 

(2)     جناب عطاء اللہ صاحب،          ڈائیر یکٹر

 

 

(3)     جناب فیروز حسین شاہ صاحب،       ایگزیکٹیوڈسٹرکٹ آفیسر ،ڈیرہ اسماعیل خان

 

 

(4)     جناب سعید خان صاحب،                 ایگزیکٹیوڈسٹرکٹ آفیسر ، دیر پائین

 

 

(5)     جناب سریرالدین صاحب،               ایگزیکٹیوڈسٹرکٹ آفیسر، )ایف اینڈپی(پشاور

 

 

(6)     جناب ایاز خان صاحب،                 اے ڈی او (اسٹیبلشمنٹ) محکمہ تعلیم ڈسٹرکٹ پشاور

 

 

-5     جناب عالمگیر درانی صاحب        ، ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل صوبہ سرحد نے مذکورہ اجلاس میں ماہرانہ رائے دینے کے لئے شرکت کی۔

 

 

کارروائی:-

 

 

-6     جناب اسرار اللہ خان گنڈاپور صاحب، ایم پی اے /محرک نے ڈی آئی خان میں محکمہ تعلیم میں بھر تیوں میں بے قاعدگیوں سے متعلق سوال کے ضمن میں کہا کہ محکمہ کی طر ف سے مہیا کردہ ریکارڈ پر اسمبلی میں بھی بحث ہوچکی ہے ۔ مذکورہ بے قاعدگیوں میں محکمہ نے جو ایکشن لینا تھا وہ انکوائری کی شکل میں سامنے آیا ہے جس میں سابقہ ای ڈی او کو ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ مسئلہ میں اُن لوگوں کو اب تک کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے جو کو الیفائیڈ ہے نیز وہ بھر تی کے انتظار میں ہیں لیکن غیر تربیت یافتہ لوگوں کو بھرتی کیا گیا جس کو محکمہ خود بھی تسلیم کر تا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر بھرتی کئے گئے ہیں اور جن کو مختلف سکولوں میں تعینات بھی کیا جاچکا ہے جس سے تمام خالی آسامیوں کو پُر کیا گیا بلکہ محکمانہ انکوائری رپورٹ کیمطابق اب بھی تقریبا چار سو ((400اساتذہ سرپلس ہیں۔ لہذا اُن حقداروں کو اُن کا حق کب ملے گا جن کے اسناد صیحح ہیں نیز اب تک محکمہ نے اس ضمن میں کیا اقدامات کئے ہیں ؟وضاحت کی جائے۔

 

 

-7     جناب محمد عارفین صاحب، سیکرٹری ، محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم صوبہ سرحد نے اس ضمن میں کمیٹی کو بتایا کہ مذکورہ بھرتیوں کے ضمن میں نگران دور حکومت میں جناب فلک ناز صاحب، ڈائریکٹر اور دیگر ممبران پر مبنی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جنہوں نے محکمے کو رپورٹ بھی پیش کی لیکن اُس انکوائری رپورٹ میں بہت ساری خامیاں تھیں لہذا مذکورہ ضمن میں دوبارہ انکوائری اُن کے ذمہ لگادی گئی۔

 

 

اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ انکوائری اُن کے لئے ایک تلخ تجربہ تھا کیونکہ دوران انکوائری اُنہوں نے یہ محسوس کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسا کونسا اساتذہ کا کیڈر ہے کہ جس پر بھرتی صحیح ہوئی ہو ۔اُنہوں نے2003-04ء سے لیکر2007ء تک انکوائری کی حالانکہ اُن کے ذمے صرف ماضی قریب کی بھرتی کی ضمن میں انکوائری تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اُس وقت کے ای ڈی او (عبدالرحیم) اور دیگر منسٹیریل سٹاف جس میں سپر نٹنڈنٹس وغیرہ شامل تھے، سے اُنہوں نے ذاتی طور پر مذکورہ بے قاعدگیوں کے ضمن میں پوچھ گچھ کی۔

 

 

-8     اُنہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی نے ایک جامع سوالنامہ تیار کیا جس میں مختلف کیڈر کی منظور شدہ پوسٹوں کی تعداد، بھرتی کے لئے اشتہار دینے، ملازمت دینے کے دیگر قواعدوضوابط کو پورا کرنے اور مختلف کیڈر کی مقررہ کوٹے پر بھرتی سے متعلق سوالات شامل کئے گئے تھے نیز اُن سے محکمانہ سلیکشن کمیٹی کے رُوداد کے ضمن میں سرٹیفیکیٹ بھی لگانے کے لئے کہا گیا لیکن مذکورہ سوالنامے کے جوابات اور مہیا کردہ ریکارڈ مطابقت نہیں رکھتے تھے نیز اُس میں محکمانہ سلیکشن کمیٹی کے رُوداد، بھرتی کے لئے اشتہار، میر ٹ لسٹ اور قواعد وضوابط کے تحت دیگر ضروری کارروائی بھی منسلک نہیں تھی۔

 

 

 

 

-9     سیکرٹری صاحب نے مزید بتایا کہ مذکورہ فراہم کردہ ریکارڈ میں منظورشدہ پوسٹوں سے متعلق معلومات ناکافی تھی لہذا اُنہوں نے محکمہ خزانہ سے تحریری طور پر رابطہ کرکے2002-03ء سے لیکر 2007ء تک منظور شدہ پوسٹوں کی تفصیل حصل کی نیز متعلقہ ای ڈی او کی اسمبلی سوال نمبر31میں دیئے گئے جواب کو بنیا د بنایا ۔اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ دو معلومات کے باوجود اُن کی انکوائری ادھوری رہ جاتی ہے کیونکہ ان معلومات میں اُن لوگوں کی تفصیل شامل نہیں ہے جودوران سروس وفات پاگئے ہیں یا بالائی عمر رکھنے والے اُمیدوار ہیں یا ریٹا ئرڈ ہوچکے ہیں یا نااہل افراد کی بھرتی ہے ۔لہذا اُنہوں نے متعلقہ دفاتر کے تمام منسٹیریل سٹاف کو انکوائری میں اسلئے شامل کیا کہ ایک لحاظ سے وہ بے قاعدگیوں میں شامل تھے کیونکہ اُنہوں نے ان بے قاعدگیوں کی محکمہ کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔

 

 

-10    اُنہوں بتایا کہ محکمہ نے مذکورہ انکوائری رپورٹ پر وزیراعلی صاحب کو متعلقہ افسران کے خلاف ایک خلاصہ پیش کیا تاکہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکے۔ وزیراعلی صاحب نے ان افسروں کے خلاف ملازمت سے برخاستگی (خصوصی اختیارات ) آرڈیننس کے تحت تادیبی کارروائی کی منظوری دی اور محکمہ ھذا کے خصوصی معتمد حاجی احمد خان صاحب کو انکوائری افسر مقررکیا۔ اُنہوں نے انکوائری رپورٹ محکمہ کوارسال کی جس میں عبدالرحیم، سابقہ ای ڈی او، ڈیرہ اسماعیل خان کو ان تقرریوں میں بے ضابطگی کا ذمہ دار ٹھرایا اور اُنکوملازمت سے جبری رخصت کی سزا تجویز کی نیز دیگر اہلکار جواس میں ملوث تھے، کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی سفارش کی۔

 

 

-11    اُنہوں نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بھرتیوں میں مُلوث ای ڈی او کے تبادلے پر نئے ای ڈی او نے بھی تقریبا286اساتذہ کو بیک ڈیٹس میں سابقہ ای ڈی او کی دسخطی سے بھرتی کیا ۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ کے لئے اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ مذکورہ بھرتیوں میں کچھ افراد صحیح طورپر بھی بھرتی ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں کے عدالت میں مقدمے زیر سماعت ہیں۔ اُنہوں نے کمیٹی کو تجویز پیش کی کہ صوبائی انسپکشن ٹیم کے ذریعے2007ء سے لیکر 2008ء تک کی انکوائری کی جائے تاکہ خلاف قانوں بھرتیوں کی نشاندہی ہوسکے۔

 

 

-12    اس موقع پر جناب اسرار اللہ خان گنڈاپور صاحب، ایم پی اے،محرک نے کہا کہ مذکورہ286بھرتیوں کے دو پہلو ہیں۔

 

 

ایک تو سابقہ ای ڈی او (عبدالرحیم) اور نئے ای ڈی او نے ان بھرتیوں میں رشوت لی ہے۔ دوسرا پہلو الیکشن کا ہے جس میں لوگوں میں بلینک تقرری نامے تقسیم کئے گئے جس کے تحت 150غیر تر بیت یافتہ افراد کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ اکاوٴنٹ آفس کے اہل کاروں نے بھی رشوت لے کر اساتذہ کو مختلف سکولوں میں خالی آسامیوں پر تعینات کیا جس سے اب وہاں پر کوئی بھی خالی آسامی موجود نہیں ہے۔

 

 

-13    اُنہوں نے کہا کہ اُن کے حلقے میں پہاڑ پور جو کہ تقریبا سو کلو میٹر دوری پر ہے ۔کے 80افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اُنہوں نے سیکرٹری کی پروانشل انسپیکشن ٹیم کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر انکوائری کی جائے گی تو مذکورہ معاملہ آئندہ پانچ سالوں میں بھی حل نہ ہوسکے گا۔ لہذا محکمہ خود تمام ریکارڈ قواعدوضوابط کے تحت دیکھ کر فیصلہ کرے کیونکہ یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ بھرتیوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور حقداروں کو چھوڑکرغیر تربیت یافتہ افراد کو بھرتی کیا گیا ہے۔

 

 

-14    جناب سکندر حیات خان شیرپاوٴ صاحب، ایم پی اے نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ مذکورہ بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے بارے میں بخوبی جانتی ہے اب اگر اس کو انسپیکشن ٹیم سے انکوائری کروائی جائے تو وہ ایک دفعہ پھر نئے سرے سے تمام ریکارڈ سے واقفیت حاصل کرے گی جس پر مزید وقت لگ جائے گا۔ لہذا محکمہ خود اپنے طور پر اُن 1500بھرتیوں کے خلاف کارروائی کرے جوکہ 2007ء میں ہوئے ہیں۔

 

 

-15    سیکرٹری صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مذکورہ بھرتیاں صوبائی محکمہ تعلیم کے دائر اختیار میں نہیں آتی کیونکہ ایک سے دس اور گیارہ سے پندرہ گریڈ تک کے اساتذہ کی تقرریاں اضلاع میں متعلقہ ای ڈی اوز کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان بھرتیوں میں محکمہ نے متعلقہ ای ڈی او سے صرف اُن محکمانہ کاروائی کو پورا کرنے کی ضمن میں دریافت کیا ہے جو کہ محکمہ کے دائرکار میں آتے ہیں اور باقی بھرتیوں اور اہلکاروں کے تمام کاغذات کی مکمل جانچ پڑتال سے محکمہ قاصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ انسپیکشن ٹیم سے انکوائری کرنے پر زوردے رہی ہے۔

 

 

-16 کمیٹی نے مذکورہ بھرتیوں کی انکوائری پروانشل انسپیکشن ٹیم سے کروانے کی تجویز کو متفقہ طور پر رد کیا۔

 

 

~-17 سردار اورنگزیب نلوٹھ صاحب، ایم پی اے نے اس موقع پر کہا کہ مذکورہ بھرتیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے کیونکہ اُنہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور حقداروں کو محروم رکھا نیز بھرتی شدہ افرادکو دئیے گیئں تنخواہیں متعلقہ ای ڈی او سے وصول کی جائے تاکہ آئندہ کے لئے کو ئی ایسی جرات نہ کرسکے۔

 

 

-18 اس موقع پر فیروز حسین شاہ صاحب، ای ڈی او محکمہ تعلیم ڈیرہ اسماعیل نے کمیٹی کو بتایا کہ 2003ء سے لیکر2006ء تک بھرتی کا سلسلہ کچھ سیدھا کچھ الٹا چلتا رہا جس میں اخبارات میں اشتہارات بھی دئیے گئے ، میرٹ لسٹ بھی بنائی گئی لیکن جب الیکشن کا سال آیا تو اُس وقت اخبارات میں اشتہارات تو دیئے گئے اورمیرٹ لسٹ بھی بنائی گئی مگر بعد میں اس سے نام نکال کر دوسرے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ 2007ء سے لیکر2008ء بھرتیوں کے ضمن میں وہ اسناد کی تصدیق نہیں کرسکتے اور نہ ہی ریکارڈ کو دیکھ سکتے ہیں لہذٰا 2007ء س لیکر2008ء تک کی تقرریوں کی کینسل کرکے نئے سرے سے بھرتی کی جائے کیونکہ پی ٹی سی کی آسامیوں پر غیر تربیت یافتہ میٹرک پاس افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جبکہ اس وقت ایم اے ، ایم ایس سی، بی ایڈ اور ایم ایڈ کے امیدواران موجود تھے۔

 

 

ٴ19     انہوں نے کہا جب سے اُنہوں نے چارج سنبھالا ہے اُنہوں نے اکاونٹ آفس کو غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی تنخواہوں کی بندش کے لئے تحریری طور پر لکھا تھا لیکن ڈی سی او ڈیرہ نے ضلع ناظم کے کہنے پر دوبارہ اُن کی تنخواہیں جاری کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نگران دور حکومت میں فی بھرتی پچاس ہزار سے ستر ہزار روپے متعلقہ دفتر لیتا رہا جبکہ اکاونٹ آفس فی بھرتی بیس ہزار روپے لیتا رہا۔

 

 

-20    عبوری حکومت میں بھرتیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے موجودہ ای ڈی او نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ آفیسر مردانہ نے 18، ڈسٹرکٹ آفیسرزنانہ نے 36، دفتر ڈپٹی ڈی او مردانہ نے 135، دفتر ڈپٹی ڈی او زنانہ نے 48، دفتر ڈی ڈی او مردانہ کلاچی نے 32، اور دفتر ڈی ڈی او زنانہ کلاچی نے 18افراد کی بغیرکسی اشتہار، انٹرویو، میرٹ لسٹ اور محکمانہ منظوری کے سابقہ ای ڈی او کے دستخط سے رتقرری کی ہیں اُنہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ بھرتیوں کے ضمن میں اُن مقدموں میں جنہوں نے تنخواہیں جاری کرنے کیلئے کائر کئے ہیں ، کے لئے تقریبا ہر دوسرے روز انہیں عدالت میں پیشی کیلئے پشاور آنا پڑتا ہے۔ مذید براں ہائی کورٹ نے ان کی تنخواہیں جاری کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بھرتیاں منظور شدہ پر نہیں ہوئی ہیں لہذٰا یہ اب اُن کیلئے مسئلہ بنا ہوا ہے کہ کہاں سے اُن کی تنخواہیں ادا کرے نیز اس ضمن میں اُن کے خلاف اب بھی توہیں عدالت کے چار مقدمات چل رہے ہیں۔

 

 

-21    کافی بحث کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ محکمہ ایک مہینے کے اندر اندریکم جنوری 2007ء سے لیکر جون 2008ء تک جوافراد غیر قانونی طور پر بھرتی ہوئے ہیں اُن کے آرڈرز کو منسوخ کرے اُن اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے جو اس میں ملوث پائے جائیں ۔

 

 

سفارش:۔

 

 

-22    کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ پیراگراف نمبر 21میں دی گئی سفارش منظور کی جائے۔

 

 

 

 

مختیار علی ایڈوکیٹ

 

 

چیئرمین،