STANDING COMMITTEE NO. 02 ON LAW REFORMS AND CONTROL ON SUBORDINATE LEGISLATION

Committee Report : STANDING COMMITTEE NO. 02 ON LAW REFORMS AND CONTROL ON SUBORDINATE LEGISLATION

 

صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ شمال مغربی سرحدی صوبہ

رپورٹ مجلس قائمہ نمبر 02

برائے قانونی اصلاحات اور ماتحت قانون سازی پر کنٹرول

            مجلس قائمہ نمبر 02 برائے قانونی اصلاحات اور ماتحت قانون سازی پر کنٹرول درج ذیل اراکین پر مشتمل قاعدہ 193 کے تحت مورخہ 20 اگست 2008 کو تشکیل دی گئی-

1۔    جناب کرامت اللہ خان چغرمٹی صاحب ، سپیکر                چیئرمین

 2۔   جناب ثاقب اللہ خان صاحب ،                               ایم پی اے                  ممبر

3۔    جناب میجر (ریٹائرڈ) بصیر احمد خان خٹک صاحب،         ایم پی اے                  ممبر

4۔    جناب حافظ اختر علی صاحب،                              ایم پی اے                  ممبر

5۔    جناب منور خان ایڈوکیٹ صاحب،                           ایم پی اے                  ممبر

6 ۔   جناب عبدالاکبر خان صاحب،                               ایم پی اے                  ممبر

7 ۔   جناب اسراراللہ خان گنڈاپو ر صاحب،                       ایم پی اے                  ممبر

8۔    محترمہ ڈاکٹر فائزہ بی بی رشید صاحبہ،                    ایم پی اے                  ممبر

2۔    ابتدائیہ: ۔

      مذکورہ مجلس قائمہ نے اپنے اجلاس منعقدہ 13/01/2009 کو مشترکہ قرارداد نمبر40منجانب عطیف الرحمن صاحب ، ایم پی اے اور جناب محمد عالمگیر خان صاحب ، ایم پی اے اور سینئر انگلش ٹیچرز کی گریڈ 17 میں اپ گریڈیشن سے متعلق امور پر غور کیا۔

3۔    جناب عطیف الرحمن صاحب ، ایم پی اے ا ور جناب محمد عالمگیر خان صاحب ، ایم پی اے نے اجلاس میں بحیثیت محرکین شرکت کی۔

4۔    مذکورہ اجلاس میں محکمہ زراعت اور محکمہ تعلیم صوبہ سرحد کے درجہ ذیل نمائندوں نے شرکت کی۔

      محکمہ زراعت

1۔    جناب عطاء اللہ خان صاحب،           سیکرٹری زراعت

2۔    جناب امین اللہ خان صاحب ،           ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو

3 ۔    جناب خالد ممتاز خان صاحب،          اسسٹنٹ رجسٹرارکوآپریٹو

      محکمہ تعلیم

1۔    جناب محمد عارفین صاحب ،            سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن

2۔    جناب احمد خان صاحب ،             سپیشل سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن

 

 

قرارداد نمبر40 بسلسلہ کوآپریٹیو بنک کی بحالی

            جناب عطیف الرحمن صاحب، ایم پی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ اسمبلی نے کوآپریٹیو بنک کی بحالی سے متعلق رپورٹ کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی لیکن حکومت نے تا حال اُس رپورٹ پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ نہ بینک بحال ہو اہے اور نہ ہی بینک ملازمین بحال ہوئے ہیں جبکہ ملک کے دوسرے صوبوں میں کوآپریٹوبینک موجود ہے اور وھاں کے کاشتکاروں کو کو آپریٹیو سوسائٹی زریعے قرضے فراہم کئے جاتے ہیں ۔

6 ۔         جناب عطاء اللہ صاحب ، سیکر ٹری زراعت نے کمیٹی کو بتایا کہ آپریٹوبینک کی بحالی کے حوالے سے اسمبلی کی منظور شدہ سفارشات پر عمل درآمد کے لئے صوبائی حکومت کی منظوری سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، صوبہ سرحد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کمیٹی نے 7مارچ 2008ء کے اجلاس میں تمام امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پنجاب آپریٹوبینک سے مختلف معلومات حاصل کی تھیں ۔ محکمہ قانون، صوبہ سرحد نے اس بارے میں رائے دی ہے کہ مذکورہ بینک اگر اب تک ختم نہیں کیا جاچکا ہے اور اسکی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی جاچکی ہے تو اسمبلی کی متفقہ قرارداد پر عمل در آمد کر نالاز می ہے ۔اُنہوں نے بتایا کہ قانونی طور پر بینک اب بھی موجود ہے اور اُس کی رجسٹریشن منسوخ نہیں ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ رقم کا ہے ۔صوبہ فیڈرل آپریٹوبینک کا 17 کڑوڑ روپے کا مقروض تھا جو مرکز نے وصال کر لئے ہیں ۔ لہذا مالی مسائل کا سامنا ہے جونہی یہ مسئلہ حل ہوا بینک فورا بحال کردیا جائیگا۔

7۔    جناب عبدالاکبر خان صاحب ، ایم پی اے نے کہا کہ کوآپریٹوبینک1925-26 ءء میں قائم ہوا تھا اور بینک نے عوامی مفاد میں کافی اچھے کام کئے تھے ۔ گزشتہ اسمبلی نے اس سلسلے میں تقریبا 4,3 سال تک کام کیا تھا اور کافی غوروحوض کے بعد بینک کی بحالی سے متعلق سفارش کی تھی جسے اسبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا ۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر متفقہ طور پر پاس شدہ رپورٹ کا یہی حشر ہوتا ہے تو پھر کمیٹی میں بیٹھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

8۔    اس موقعہ پر جناب میجر (ر)بصیر احمد خٹک صاحب ، ایم پی اے نے کہا کہ حکومت موجودہ حالات کے مطابق آپریٹوسوسائٹی ایکٹ مجریہ1925 اور 1927 کے قواعد میں ترامیم اگر چاہیں تو کرلیں لیکن بینک بحال ہونا چائیے۔

9۔    جناب ہدایت اللہ خان صاحب، وزیر امداد باہمی حکومت صوبہ سرحد نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت بینک کو ضرور بحال کرے گی ۔ اُنہوں نے کمیٹی کو کچھ مہلت دینے کے لئے درخواست کی۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ بینک کے جن ملازمین نے گولڈن ہینڈ شیک لیا ہے ان کو دوبارہ بحال نہیں کیا جاسکتا۔

10۔   جناب چیئرمین صاحب نے اس موقع پر کہا کہ مالی مسائل حل کئے بغیر بینک کی بحالی ممکن نہیں ۔ کیونکہ صوبے کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر بینک کو نئے سرے سے شروع کر نا ممکن ہوگا۔

11 ۔        جناب ثاقب اللہ خان صاحب ، ایم پی اے نے کہا کہ بہت سارے NGOs سے نرم شرائط پر صوبائی حکومت نے قرضے حاصل کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ خیبر بینک نے رورل سپورٹ پروگرام کو بھی نرم شرائط پر قرضے فراہم کئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بینک بحال ہونے سے سارے مسائل خود بخود ختم ہوجائینگے ۔

12 ۔        جناب عطاء اللہ خان صاحب سیکرٹری زراعت نے بینک کے اثاثوں ،دیگر قرضہ جات کے بارے میں مندرجہ زیل   تفصیل پیش کی:۔

ٍٍ            قابل و صول قرضہ جات   175.80                    ملین روپے

            مارک اپ                88.512                    ملین روپے

            ٹوٹل                     263.592                   ملین روپے

            بینک کے نام رہن شدہ / انتقال شدہ اراضی   25 ہزار 881 کنال

            بینک میں موجود کیش                      3       کڑوڑروپے

            پشاور صدر میں پلازہ کی قیمت تقریبا        15    کڑوڑ روپے

            بینک ملازمین کو دی گئی رقم               10    کڑوڑ 50 لاکھ روپے

            بینک کے ذمہ صوبائی حکومت کا قرضہ     17    کڑوڑ روپے

                        سفارش

 

13 ۔        کافی غور وحوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ حکومت 45 دن کے اندر اندر بینک کی بحالی کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے اور اسمبلی سیکرٹریٹ کو اس سلسلے میں آگاہ کیا جائے۔

14 ۔  سینئرانگلش ٹیچرز کی گریڈ17 میں اپ گریڈیشن

      سینئرانگلش ٹیچرز کی گریڈ17 میں اپ گریڈیشن پر عمل درآمد کے بارے میں جناب سپیکر صاحب نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مورخہ9/10/2008 کو مذکورہ مسئلہ کمیٹی کے حوالہ کیا ۔

15۔         جناب محمد عارفین صاحب ، سیکرٹری محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ سابق وزیر اعلی صاحب نے محکمہ ہذا میں مختلف تدریسی کیڈرز کے عہدوں پر یک وقت (One Time ) اپ گریڈیشن کی منظوری دی تھی ۔ انہوں نے مختلف تدریسی کیڈرز کے سروس قواعد/ ملازمتی ڈھانچے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے زیر سرپرستی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ مذکورہ کمیٹی نے کافی غوروحوض کے بعد یہ سفارش کی کہ ان تمام SETs کی پوسٹوں کو جنہوں نے 10 سال سروس مکمل کی یک وقت (one time) اپ گریڈ کیا جائے۔ اسی سفارش کی روشنی میں مں محکمہ خزانہ نے 21 اپریل 2008 کو نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

16۔         اس ضمن میں جناب عبدالاکبر خان صاحب ،ایم پی اے نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی نے ایک متفقہ رپورٹ کی منظوری دی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ دس سال سروس مکمل کر نے والے سینیئر انگلش ٹیچرز کو گریڈ 17 میں اپ گریڈ کیا جائے ۔ اس کے علاوہ سابقہ وزیر اعلی صاحب نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ دس سال سروس مکمل کرنے والے SETs کو گریڈ 17 دیا جائے لیکن ان سب کے باوجود محکمہ نے کافی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نہ ہی محکمہ نے ایوان کے وقار کا خیال رکھا ہے۔ اور نہ صوبے کے وزیر اعلی صاحب کے احکامات کو تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ خزانہ نے26 جنوری 2008 کو دس سال سروس مکمل کرنے والے SETs کو گریڈ 17 میں اپ گریڈ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ۔ اسکے بعد 21 اپریل 2008 کو ایک اور نوٹیفیکیشن کے زریعے ان کے ساتھ ایک وقت(one time) کی شرط لگادی جو کہ انتہائی زیادتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی کی رپورٹ پر تو عمل درآمد کیا جاتا ہے لیکن اسمبلی اور وزیر اعلی کے فیصلے کو نظر انداز کرادیا جا تا ہے جو کہ اسمبلی کے استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

17 ۔        جناب ثاقب اللہ خان چمکنی صاحب ، ایم پی اے نے کہا کہ اگر محکمے خود فیصلے کرسکتے ہیں تو پھر ممبران اسمبلی کو اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے فیصلوں کو فوقیت نہیں دی جاتی ہے۔ لہذا انہوں نے سفارش کی کہ ان افراد کے خلاف جعلسازی کرنے پر کاروائی کی جائے۔

      سفارش

18 ۔        کافی بحث کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی دو ہفتوں میں محکمہ خزانہ 26 جنوری 2008 کے نوٹیفیکیشن کی بحالی کے لئے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں اسمبلی سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا جائے۔

19 ۔        کمیٹی متفقہ طور پر سفارش کرتی ہے کہ معزز ایوان پیراگراف نمبر 13اور 18 میں دی گئی سفارشات کی منظوری دے۔