Res No 141 (S5-2024)

میں اس معزز ایوان کی توجہ ایک اہم اور فوری حل طلب مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں اس وقت محکمہ سیاحت کے زیر اہتمام اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے جو سوات میں سیاحت کے فروغ اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ۔ تاہم اس نام سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کا دائرہ کار صرف سوات کے بالائی علاقوں ،یعنی تحصیل بحرین ،تحصیل مٹہ تحصیل حوازہ خیلہ   اور تحصیل چار باغ   تک محدود ہے ۔جبکہ حقیقت میں سوات کے دیگر تحصیلوں ،جیسے تحصیل بابوزئی ،تحصیل بریکوٹ اور تحصیل کبل میں بھی کئی  سیاحتی مقامات موجود ہیں جو اس آتھارٹی کے محدود نام کی وجہ سے نظر انداز  ہو رہے ہیں اور ترقیاتی کاموں سے محروم ہیں ۔

     لہذا یہ معزز ایوان سفارش کرتا ہے کہ اپر سوات ڈویلپمنٹ آتھارٹی کا نام تبدیل کرکے سوات ڈویلپمنٹ آتھارٹی رکھا جائے ۔ اس تبدیلی سے نہ صرف ادارے کے دائرہ کار کو پورے ضلع سوات تک پھیلا یا جاسکے گا ۔ بلکہ سوات کے تمام سیاحتی مقامات کی ترقی کو یقینی بنایا   جا سکے گا ۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ان مقامات تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی ۔ جو علاقے کی معیشت اور سیاحت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا

Res No 139 (S5-2024)

  ہر گاہ کہ ملاکنڈ ڈویژن 9اضلاع پر مشتمل ہے اور صوبے میں آبادی کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ڈویژن  ہے اور مذکورہ ڈویژن زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جو کہ اانتظامی لحاظ سے ملاکنڈ ڈویژن کو کنڑول کرنا انتہائی  مشکل ہے.

  لہذایہ اسمبلی صوبائی حکومت سے اس امر کی پر زور سفارش کرتی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ملاکنڈ ڈویژن اور پنچکوڑہ ڈویژن  ایک نیا ڈویژن  ہو جو کہ چترال بالا ،چترال پائین ،دیر بالا،دیر پائین اور باجوڑ پر مشتمل ہوں جس کا ہیڈکوا ٹر  تمرہ گرہ ہو۔

Res No 137 (S5-2024)

ہر گاہ کہ صوبے کے چار اضلاع کو لئی پالس ، لوئر کوہستان، اپر کوہستان اور تور غر پسماندہ ترین اضلاع ہیں اور بلند و بانگ بالا پہاڑوں پر مشتمل ہیں جن کے لوگ غربت کے لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور وہاں پر تعلیمی Ratio بہت کم ہیں اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری کر کے اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

جناب پیکر! حال ہی میں صوبائی حکومت نے محکمہ تعلیم میں مختف مردانہ اور زنانہ آسامیاں مشتہر کی ہے جن میں پرائمری سکول ٹیچر کے لئے تعلیمی قابلیت BS رکھا گیا ہے جو کہ ان چار اضلاع کے پسماندہ میلان اور کے ماند پھیلی اور فیمیل کے لئے نہایت ہی مشکل ہے اور اس سے وہاں پر بے روزگاری اور بڑھی گی۔

لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے اس امر کی پر زور سفارش کرتی ہے کہ وہ پرائمری سکول ٹیچر اور دیگر آسامیوں کے لئے تعلیمی قابلیت جو ہ BS رکھی گئی ہے، میں نرمی کرتے ہوئے ضلع کولئی پاس، لوئر کوہستان، اپر -کو ہستان اور تورغر کے لئے مطلوبہ تعلیمی قابلیت میں نرمی کرتے ہوئے ایف اے رکھا جائے تاکہ ان اضلاع کے میل اور فیمیل کو جو کہ کم تعلیم یافتہ ہے کو accommodate کرنے کا موقع مل سکے۔

Res No 138 (S5-2024)

چونکہ تیمرگرہ میڈیکل کالج ایک اہم ادارہ ہے جو خیبر پختونخوا کے ایک پسماندہ علاقے میں طبی تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ چونکہ کالج پہلے ہی فیکلٹی کی کمی کا سامنا کر رہا ہے اور اس وقت تقریباً 40 فیصد تدریسی عملہ ایڈ ہاک بنیادوں پر خدمات انجام دے رہا ہے چونکہ ان ایڈہاک فیکلٹی ممبران کی مدت 31 مارچ 2025 کو ختم ہو رہی ہے، جو کالج کے تعلیمی اور تدریسی عمل کے تسلسل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے؛ چونکہ تیمرگرہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں نئے فیکلٹی ممبران کی بھرتی مشکل ہے، اور موجودہ ایڈہاک فیکلٹی نے اپنے مستقل روزگار کو خطرے میں ڈال کر اس کالج کو فعال رکھنے کے لیے اپنی خدمات فراہم کی ہیں چونکہ ملازمت کے عدم تحفظ کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار پروفیسرز اس ادارے میں شمولیت یا اپنی خدمات جاری رکھنے سے ہچکچاتے ہیں، جو فیکلٹی کی قلت کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

     لہذایہ ایوان صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کے موجودہ ایڈ ہاک فیکلٹی ممبران اور کنٹریکٹ ڈاکٹرز جن کا کنٹریکٹ ختم ہو چکا ہے کی مستقلی کے لئے ضروری اقدامات کرے تاکہ معیاری طبی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور تدریسی عمل میں کسی بھی قسم کے تعطل سے بچایا جا سکے۔

Res No 143 (S5-2024)

ہر گاہ کہ بتاریخ 14 جنوری2025 کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے زیر صدارت بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا جس میں ٹورازم پولیس اہلکاروں کو ریگولر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہی اہلکاروں کی تنخواہ 36000 سے بڑھا کر 45000 روپے کرنے کی منظوری بھی دی گئی لیکن بعد ازاں مذکورہ بالا فیصلے پر متعلقہ ٹورازم و کلچر اتھارٹی نے ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا اور ٹورازم پولیس اہلکاروں کا کنٹریکٹ بھی عنقریب ختم ہونے والا ہے۔

     لہذایہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ ٹورازم پولیس اہلکاروں کو ریگولرائز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ کو بھی 36000 سے 45000 روپے کرنے کے احکامات جاری کریں۔

Res No 136 (S5-2024)

ہر گاہ کہ اسلام آباد میں 26نومبر 2024ءکو پُر امن احتجاج کے دوران اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو غیر قانونی گرفتار کیا اور سینکڑوں کارکنان زخمی ہوئے جبکہ گرفتار کارکنوں کو اٹک جیل میں بلخصوص  پختونوں کے ساتھ بہت زیادہ ظلم و برنریت کر رہی ہے اور جیل مینول کے مطابق کھانا بھی فراہم نہیں کیا جاتا ۔

   لہذا یہ اسمبلی صوبائی  حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس امر کی پرزور سفارش کرے کہ گرفتار کارکنوں کے ساتھ ظلم و نا انصافی بند کرکے فی الفور رہا کیا جائے۔

Res No 140 (S5-2024)

حسب سابق سروس رولز اور اُصولوں کے مطابق سنیارٹی ہمیشہ تقرری کی تاریخ سے شمار کی جاتی ہے۔ اسے ایف اے/ایف ایس سی کی اصولی تاریخ سے مشروط کرنے سے سینئر ملازمین نقصان میں رہتے ہیں کیونکہ کم سروس والے ملازمین جو پہلے تعلیمی قابلیت حاصل کر چکے ہیں۔وہ زیادہ تجربہ رکھنے والے ملازمین سے پہلے ترقی پا جاتے ہیں جو کہ اصول میرٹ سنیارٹی اور انصاف کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔

     لہذایہ اسمبلی صوبائی حکومت سے پر زور سفارش کرتی ہے کہ 2019 کے سروس رولز کے تحت کلاس فور ملازمین جو ایف اے /ایف ایس سی پاس کرنے کے بعد جو نئیر کلرک عہدے کے لئے اہل ہوتے ہیں ان کی سنیارٹی کا تعین ایف اے /ایف ایس سی پاس کرنے کی تاریخ کے بجائے تقرری کی تاریخ سے ہونا چاہیے جیسا کہ محکمہ ایجو کیشن کے تمام کیڈرزملازمین کی پروموشن سنیارٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو کہ date of appointment ہوتی ہے۔

CAN No 184 (S05-2024)

    میں وزیر برائے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ 10سال پہلے تیمرگرہ میں میڈیکل کالج کے قیام کی منظوردی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کالج  میں کلاسز  آج تک شروع  نہ ہوسکی ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں صوبے کے مختلف  اضلاع   میں  منظور  کئے گئے  کالجوں  میں پانچ سال پہلے سے کلاسز شروع ہوچکی ہیں   ۔ مذکورہ کالج کے لئے ٹیکنکل افراد کی غیر موجودگی میں آلات   خریدی گئی ہیں  ۔  مذکورہ سامان  میں تقریباً   ایک ارب 40 کروڑ روپے کا سامان   ٹیچنگ ہسپتال تیمرگرہ کیلئے خریداگیا ہے جسمیں آدھے سے زیادہ سامان فزیکلی طور پر موجودہ نہیں ہے  ۔تیمرگرہ میڈیکل کالج  کے ہینڈ اینڈ ٹیک اوور کمیٹی کے ابتدائی رپورٹ کے مطابق  139 آلات میں سے 83 آلات  ای سی  جی ٹیکنیشن نے جبکہ دیگر آلات دو وارڈ اردلیز(کلاس فور)نے وصول کی  ،جسمیں یورالوجی یونٹ کے 54 ملین کے آلات  فزیکلی طور پر موجود نہیں ہیں ۔گسٹرو ینٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ نے اولمپیس اینڈوسکوپ کی درخواست کی تھی لیکن چینی اینڈوسکوپ فراہم کی گئی۔  چینی اینڈوسکوپ صرف چھ ماہ میں خراب ہوگئی۔ مذکورہ ہسپتال کی 300 بیڈز ،فوم اور ریکسین کور فزیکلی طور پر موجود نہیں ہے۔میڈیکل کالج کاPD اور سابق ڈی جی ہیلتھ سے  مذکورہ سامان  کی وصولی ممکن بنائی جائےاور  اس میں ملوث دیگرافسران کی نشاندہی کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

PM No 14 (S05-2024-29)

میں آفتاب عالم آفریدی وزیر قانون و پارلیمانی امور وانسانی حقوق صوبہ خیبر پختونخوا (ٕممبر صوبائی اسمبلی حلقہ PK-90 کوہاٹ) ہوں، میں آپ کی اور اس ایوان کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ کہ کچھ ماہ قبل صوبائی حکومت خیبر پختونخوا نے ضلع کوہاٹ میں (Plaeer Gold) کے لیئے ایریا لیز کیا جو ایک مائننگ کمپنی نے کامیاب بولی دے کر لیز حاصل کی اور اب وہ کمپنی تمام قانونی لوازمات پورے کر کے  اپنا کام قانونی طریقے سے جاری کیا ہوا ہے چونکہ یہ لیز کا ایریا تقریباً میرے حلقہ میں آتا ہے تو میرے سیاسی مخالفین نے  میرے خلاف ایک بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا ہوا ہے کہ اس لیز میں اور سونا نکالنے میں ملوث ہوں اور مالی فائدہ حاصل کررہا ہوں۔ اس پروپیگنڈا کو تقویت دینے اور اس کو وائرل کرنے کی غرض سے مسمی عرفان نمائندہ واینکر مشرق چینل نے میرے سیاسی مخالفین کی ایماء پر اور ان کے میل ملاپ سے اپنے ایک V-Log  اور ویڈیو تجزیہ میں میرے خلاف بغیر تحقیق وثبوت بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی الزامات عائد کئے جس میں انہوں نے کیا کہ وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی کوہاٹ اس غیرقانونی  ٹھیکو ںمیں ملوث ہیں یا ان کے دست راست اس میں ملوث ہیں ۔اور وزیر قانون اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں اور یہ بھی کیا کہ وزیر قانون کو مشیر انٹی کرپشن مصدق عباسی صاحب کی منظوری سے نوٹس سے ارسال کیا گیا اور اس معاملے میں وزیر قانون کو طلب کیا گیا ہے ۔حالانکہ ان الزامات میں کوئی صداقت  نہیں ہے اور نہ کوئی نوٹس محکمہ انٹی کرپسن سے جاری ہوا ہے اور نہ کوئی انکوائری قائم کی گئی ہے موصوف عرفان نے صحافت کے اصولوں کے خلاف  میرے خلاف منفی، بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈا کو سوشل میڈیا پر تقویت دی اور اس کو پھیلایا اور بدنیتی کی بناء پر   جھوٹا، ہتک آمیز اور توہین آمیز بیان دیا  اور تجزیہ دیا، مذکورہ ویڈیو بیان (V-Log ) سوشل میڈیا پیج (Azaad Urdu/Twitter ) پر مورخہ 09-01-2025 کو دیا گیا۔ جس کو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا۔ عرفان کے اس فعل سے نہ صرف میری عزت مجروح ہوئی، میری توہین ہوئی ،رسوائی اور بدنامی ہوئی میرے سیاسی کیئریر کو نقصان  پہنچا بلکہ میری اور اس ایوان کی ساکھ بھی مجروح ہوئی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کاروائی مطلوب ہے۔ لہذا اس تحریک استحقاق کو استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے اور ضروری قانونی کاروائی کی جائے میں تمام ثبوت اپنے دفاع میں استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش کروں گا۔

CAN No 185 (S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ اعلی ٰ تعلیم کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ میرے حلقے میں تقریباً1600 ‏کنال زرعی اراضی جواس وقت انجیئنرنگ یونیورسٹی پشاور کی نگرانی میں ہے ۔کچھ دن پہلے اس زمین کو بغیرکسی اوپن ٹینڈراورقانونی تقاضے پورے کئےبغیر ‏ ایک پرائیوٹ شخص ‏کو لیز پر دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس زمین کے متعلق عدالتی حکمنامہ بھی موجودہے ۔کچھ دن پہلےقبضہ لینے کے لئے چند لوگ پہنچے ،جن کے ‏ساتھ حیران کن طور پر اینٹی کرپشن کا پورا عملہ بھی موجود تھا ۔متعلقہ ‏DSPصاحب کویہ بات رپورٹ ہوگئی تو وہ موقع پر پہنچ گئے ‏لیکن اگلےروزDSP‏ کو وجہ بتائے بغیر وہاں سے ٹرانسفر کردیا گیا۔

CAN No 152 (S05-2024)

    میں وزیر برائے محکمہ ٹرانسپورٹ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ پشاور میں بی آر ٹی بسوں میں انتہائی رش کی وجہ سے خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،جسکی وجہ سے ہراسمنٹ اور دھکم پیل روز کا معمول بن گیاہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ ایک طرف بسوں کی کمی اور دوسری طرف ایکسپرس روٹس کی اکثر بندش، صبح سکول کے اوقات میں رش اور رات کوسروس کی جلدی بندش شامل ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے کی تدارک کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

Question No 452 (S05-24)

کیا وزیر خوراک ازراہ کرم ارشاد فرمائیں گے کہ
(الف)آیا یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت نے حالیہ سیزن مٕیں کسانوں سے گندم کی خریداری کی ہے؟
(ب)اگر (الف)کا جواب اثبات میں ہو تو:۔

(i)خریداری کیلئے کیا طریقہ کار اپنایا گیا؟کیا خریداری کیلئے  قانونی  تقاضےپورے کیے گئے تھے؟
(ii) آیا خریداری صوبے کیلئے ضروری تھی ۔خریداری کے وقت گندم کی غلہ مارکیٹ میں فی من بوری کے حساب سے سرکاری کیا ریٹ  تھااور آج کیا ریٹ  ہے ۔

(iii)ضلع وائز گندم کی خریداری کیلئے کتنا کوٹہ مختص کیااور کس کے ذریعے کیا  گیا ۔ مکمل تفصیل فراہم کریں۔

Question No 413 (S05-24)

کیا وزیر توانائی و برقیات ازراہ کرم ارشاد فرمائیں گے کہ
(الف)  آیا یہ درست ہے کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے  مختلف اضلاع میں Micro/Miniہائیڈرو پاور پراجیکٹ شروع کیے تھے؟
(ب)اگر (الف) کا جواب اثبات میں ہوتو:۔
(i)مذکورہ  پراجیکٹ کے تحت اب تک کل کتنے ڈیم تعمیر ہوئے ہیں ؟
(ii)مذکورہ  مکمل شدہ  ڈیموں سے  کل کتنی میگاوٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے؟
(iii)جتنے ڈیم بنے ہیں ان کی تکمیل کا دورانیہ اور اس کی کل لاگت علیحدہ علیحدہ فراہم کی جائیں

(iv) کل کتنے ڈیم ابھی تک زیر تعمیر ہیں اور کب تک مکمل ہوں گے؟

CAN No 77 (S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ‎ ‎‏ میرے حلقہ پی کے 115 کے تمام ‏ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے گاؤں نیوگراخان میں سانپ کے کانٹے پر ویکسین دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے دو ‏بچوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔ حالانکہ اس سے قبل میں نے بطور ممبر صوبائی اسمبلی ڈی جی ہیلتھ اور متعلقہ ڈی ایچ او کیساتھ اس ویکسین سمیت ‏دیگر ضروری ادویات کے سلسلے میں بار بار رابطہ کیا لیکن مجھے حقائق کے برعکس جواب ملا جس کا ثبوت مذکورہ دلخراش واقع ہے ۔

CAN No 72 (S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ داخلہ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ نیشنل ایکشن پلان کے سفارشات کی روشنی میں خیبر پخونخوا کاونٹر ٹیرازم ڈیپارٹمنٹ میں  فیلڈاپریٹرز,جونیر فیلڈاپریٹراور سینئر فیلڈاپریٹرکی آسامیاں تخلیق کی گئی تھی جس میں موجودہ سٹاف انالسٹ اورADsکی ٹریننگ بھی شامل تھی۔ صوبائی کابینہ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ان آسامیوں کی باقاعدہ منظوری دی ہوئی ہے ۔پہلے مرحلے میں 450آسامیاں ضم اضلاع  کیلئے مشتہر کی گئی تھی جبکہ باقی بندوبستی اضلاع کی 750 تخلیق کی گئی آسامیوں کا اشتہار  ابھی تک شائع  نہیں ہوا ہے ۔

Res No 110 (S5-2024)

یہ معزز ایوان صوبائی حکومت سے پرزور سفارش کرتا ہےکہ ملک میں انرجی کے بحران اور بجلی وگیس کی کمی کی بنا پر صوبہ بھر کے شادی ہالوں کو پابند کیا جائےکہ وہ رات دس بجے تک ہر قسم کے پروگرام کو ختم کرے۔ اس سے نہ صرف انرجی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ لوگوں کا قیمتی وقت بھی بچ جائے گا۔ صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو شادی ہالوں کورات دس بجے تک ہر قسم کے پروگراموں کو ختم کرنے کے بارے میںٕ پابند کیا جائے اور وہ اس سلسلے میں اپنے اپنے ضلعوں میں مراسلے جاری کریں اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

CAN No 123 (S05-2024)

میں وزیربرائے محکمہ مواصلات وتعمیرات کی تو جہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کراناچاہتی ہوں وہ یہ کہ تحصیل ٹوپی اور خاص کر گدون کی سڑکیں انتہائی خراب ہیں آئے روز اس پر حادثات پیش آتے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

CAN No 69(S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ میرے حلقہ پہاڑپور کاTHQہسپتال صوبہ خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی گنجان آباد اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والی تحصیل کا واحد ہسپتال ہے  لیکن بدقسمتی سے اس ہسپتال میں   ڈاکٹر وں کی شدید کمی ، ادویات کی ناپیدگی ،آپریشن تھیٹراور  لیبرروم کی غیر فعالی اور صحت  کا رڈ کی نا موجودگی جیسے مسائل سے  دو چارہے۔

CAN No 85(S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ ایس ایس ٹی ،ایس ایس(فی میل) اور ایچ ایم (فی میل)پر پر وموشن گزشتہ عرصہ 8/7سالوں سے التواء کا شکار ہے۔ ڈی پی سی کی میٹینگ اس سال منعقد ہوئی ہے۔ جس کیلئے تقریباً4 دفعہ مذکورہ اُستانیوں سے کاغذات وصول کیے جا چکے ہیں لیکن ڈائریکٹریٹ اور سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم ان ایس ایس ٹی (فی میل)کی پروموشن میں سستی سےکام  لے رہی ہیں ۔حالانکہ ان اُستانیوں میں ایسی ٹیچرز  بھی موجود ہیں جن کی ایس ایس ٹی کی پوسٹ پر(10) دس سال مکمل ہو چکے ہیں ۔

CAN No 84(S05-2024)

میں وزیر برائے محکمہ صحت کی  توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں  وہ یہ کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پروونشنل ہیلتھ سروسزاکیڈمی (PHSA)کے زیرانتظام چلنے والے لیڈی ریڈنگ نرسنگ کالج کے طلباء وطالبات کیلئے دوران ٹریننگ ہفتے میں ایک دن کلینیکل پریکٹس کیلئے مختص ہے لیکن لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ ان نرسوں کو پریکٹس کی اجازت نہیں دیتا،جسکی وجہ سے طلباء وطالبات پریشانی میں مبتلاہیں ۔

Question No 276(S05-24)

کیا وزیر زراعت ارزاہ کرم ارشاد فرمائیں گے کہ
(الف)آیایہ درست ہے کہ سال 2019سے تاحال Soil Water Conservation کے تحت اے ڈی پی سکیم ، پی ایس ڈی پی سکیم کے تحت مختلف پراجیکٹ صوبہ خیبر پختونخوا میں بالعموم اور بالخصوص ضلع بنوں میں کئے گئے ہیں ؟
(ب) اگر (الف) کا جواب اثبات میں ہو تو تمام مکمل سکیموں کے نام ، محل وقوع اور تخمینہ لاگت کی تفصیل فراہم کی جائے۔

Res No 98 (S05-2024)

ہر گاہ کہ ایم این ایز اور وفاقی سیکرٹری صاحبان کو بلیو پاسپورٹ (Blue Passport) اور دیگر مراعات جاری کئے جاتے ہیں ۔جبکہ ممبران صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کو بلیو پاسپورٹ (Blue Passport)جاری نہیں کئے جاتے ۔ اس بابت پہلے بھی اسی طرح کی قرارداد یں صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا پا س کر چکی ہیں مگر تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔

   لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس امر کی سفارش کرے کہ جس طرح ایم این ایز اور وفاقی سیکرٹری صاحبان کو بلیو پاسپورٹ (Blue Passport)و دیگر مراعات دیئے جاتے ہیں اسی طرح صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے تمام معزز ممبران اسمبلی و اہلخانہ اور اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین کو تا حیات بلیو  پاسپورٹ (Blue Passport)  و دیگر مراعات جاری کئے جائیں۔

Res No 99 (S05-2024)

ہم خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندے ،جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مقصد کی غیر متزلزل حمایت میں متحد کھڑے  ہیں ۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی  قرارداد 47 میں درج ان کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی دوبارہ توثیق کرتے ہیں ۔

     ہم آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی، جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جعلی انتخابات اور مستقبل کے ریفرنڈم میں ہیراپھیری کے لیے جعلی ڈ و میسائل کی تیاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ اقدامات جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔

     ہم تمام جابرانہ اقدامات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی مکمل بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

     ہم عالمی برادری ، خاص طور پر اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مد اخلت کرے اور جموں و کشمیر کے مستقبل کے تعین کےلیےاقوام متحدہ  کی نگرانی میں آزاد،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کویقینی بنائے۔

     ہم اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرے اورمتاثرہ آبادیوں کو انسانی امداد فراہم کرے۔

     ہم سفارتی بات چیت کے ذریعے پر امن حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسےاقدامات سے بازر ہیں جو مزید کشیدگی کوبڑ ھاسکتے ہیں۔

         ہم جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق ، آزادیوں اور وقار کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنےکا عہد  کرتے ہیں۔

CAN No 89(S05-2024)

I would like to draw the attention of Minister for Health towards the urgent public importance regarding non-provision of house jobs to MBBS doctors. Government Hospitals do not offer house jobs to students who have done their MBBS from foreign or private medical colleges. The Government Hospitals only allow their own students for house jobs. Mardan Medical Complex is the major Hospital of the district, which provides House jobs to only fifty (50) students of Bacha Khan Medical College and rest of the students of other medical colleges are deprived of it, which is causing grave concerns amongst them.

CAN No 33(S05-2024)

میں وزیر  برائے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں وہ یہ کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں پروونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی (PHSA) کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری  نرسنگ کالجز کے طلباء وطالبات کو دوران ٹریننگ حکومت کی جانب سے ماہواروظیفہ دیاجاتاتھا جو کہ سال 2021ء کے بعد آنے والے  طلباء وطالبات کو دینا بند کردیا گیاہے جسکی وجہ سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے غریب طلباء وطالبات شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ یہ وظیفہ  دوسرے صوبوں  کے سرکاری  نرسنگ کالجز کے طلباء وطالبات کو اب بھی باقاعدگی سے دیا جارہاہے ۔

Res No 97 (S05-2024)

    میں اس ہاوس کو بذریعہ قرارداد ہذا متوجہ کرنا چاہتا ہو چونکہ ڈسٹرکٹ تحصیل خطبا ءکی تقرری سال 2012میں ہوئی ۔جو کہ تا حال کونٹریکٹ (Contract Basis)پر جاری ہے یہ امر ضروری ہے چونکہ ان خطباء کی آج تک کوئی شنوائی نہ ہوئی ہے ۔

   لہذا اس قرارداد کی بابت ان کی مستقل تقرری بذریعہ قراردادہذا تجویز کرتا ہوں ۔

Res No 95 (S05-2024)

   یہ ایوان تعریف کے ساتھ تسلیم کرتا ہے کہ آئین کے وضع کرنے والوں نے ریاستی حکام اور اداروں کو ان کے کاموں کے سلسلے میں رہنمائی کے لئے پالیسی کے اصول کا ایک باب بھی فراہم کیا ۔

یہ ایون نوٹ کرتا ہے کہ پالیسی کے اصول کا آیٹکل 38 (d) مندرجہ ذیل بیان کرتا ہے

ایسے تمام شہریوں کے لئے زندگی کی بنیاد ی ضروریات جیسے خوراک لباس ،رہائش ،تعلیم اور طبی امداد فراہم کریں یہ ایوان مزید تسلیم کرتا ہے کہ 1973میں متفقہ آئین کی منظوری کے وقت و سائل کی رکاوٹوں کی وجہ سے ان اصولوں کا نفاذو سائل کی دستیابی سے مشروط تھا ۔ اس ایوان کا خیال ہے کہ آئین کی منظوری کے نصف صدی سے زائد  عرصے کے بعد ملک صحت کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ صحت کے حق کو پہلے ہی کئی ممالک میں بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے پاکستان کے آئین میں صحت کے حق کو بھی بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔

  لہذا  یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وفاقی حکومت سے اس امر کی پر زور مطالبہ کریں کہ وہ آئین میں ترمیم کے لئے اقدامات کرے تاکہ صحت کے حق کو پاکستان کے شہریوں کا بنیادی حق قراردیا جائے جیسا کہ اس میں مذکوردیگر بنیادی حقوق ہیں ۔

CAN No 98 (S05-2024)

میں وزیربرائے محکمہ داخلہ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں وہ یہ کہ مسمی نظردین ولد فضل کریم ساکن ملکانہ ناواگئی کو دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھی جس پر انہوں نے حکومت سے اپنی اور فیملی کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی گارڈز کےلئے درخواست کی تھی جس پر حکومت نے ایک کمیٹی کی تحقیق کے بعد ان کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی گارڈز دینے کی منظوری دی لیکن بدقسمتی سے مسمی نظردین جولائی 2024 کو باجوڑ بم دھماکے میں شہید ہوا۔ اب موجودہ ڈی پی او نے بغیرمعلومات اور کمیٹی کی منظوری کے بغیران کے سیکیورٹی گارڈز واپس لیئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی فیملی کو کافی مشکلات درپیش ہیں ۔

Special Committee on the incident occurred in the Khyber Pakhtunkhwa House, Islamabad (2024)

Terms of Reference:

  1. Attack on Khyber Pakhtunkhwa House, Islamabad:

Examination of the incident of housebreaking and criminal trespass, including identification of individuals who entered the premises and the directions issued by authorities, such as the Inspector General (IG) or the Ministry of Interior.

  1. Abuse and misuse of Authority:

Assessment of actions taken by Police Personnel and other securities agencies that constitute an abuse of power and authority.

  1. Abduction:

Investigation into the abduction of Ministers, Members of the Provincial Assembly (MPAs, Special Assistants, their staff, families of the Members and innocent citizens of Khyber Pakhtunkhwa including the duration of the intruders’ presence.

  1. Physical Assault:

Review of reports regarding physical assaults and the use of criminal force against inmates of KP House and Ministers, MPAs, Special Assistants, their staff, families of the Members and innocent citizens of Khyber Pakhtunkhwa.

 

  1. Damage to Property:

Documentation of damage and losses incurred to Library and other moveable and immovable property and vehicles of Government during the incidents.

 

  1. Obstruction of Public Servants:

Evaluation of obstructions faced by public servants while discharging their official duties.

 

7. The Quorum to constitute a sitting of the Special Committee will be Three (03).

8. The Special Committee will submit its report within 15 days.

 

Download Committee Notification

PM No 08(S05-2024-29)

ہمارے علاقے رنگ روڈ پشاور پر PDA کی طرف سے ہماری قوم (خلیل مومند) کی ذاتی جائیداد پر PDA پشاور نے آپریشن شروع کیا تھا جس پر ہم خود اور ہماری قوم رہائش پزیر ہے بغیر کوئی معاوضے کے آپریشن شروع کیا تھا۔ جس پر علاقے کے عمائدین نے ہم سے رابطہ کیا اس وقت میں خود عمائدین کے پاس پہنچ گیا اور دس پندر بزرگ عمائدین کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل PDA کے آفس پہنچ گیا ڈائریکٹر جنرل صاحب خود موجود نہیں تھے میں نے عمائدین کو کانفرنس روم میں بیٹھایا اور مذکورہ سٹاف سے کہا کہ عمائدین کو پانی پلایا جائے انہیں پانی تک نہیں پلایا گیا اس دوران ڈائریکٹر PDA سہیل فیروز آئے اور انہیں پوری بات تفصیل سے سمجھائی لیکن انہوں نے غیر مہذب اور جاہلانہ رویہ اختیار کر کے میرے اور میرے علاقے کے بزرگ عمائدین کی بے عزتی کی جس میں تمام علاقائی مشران اور دیگرپارٹیوں کے سربراہان اور امیدوران موجود تھے جس سے نہ صرف میرا بلکہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہواہے۔ لہذا اسکو استحقاق کمیٹی کےسپرد کر ے مذکورہ آفسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرکے انکو ضلع بدر کیا جائے۔

PM No 07(S05-2024-29)

کچھ روز قبل میرے حلقے کے چند غریب محنت کش لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی اور انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر مردان بہزاد عادل کے حکم پر ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے اور ہمارے منہ سے نوالہ چھین کے ہمیں ذاتی روزگار سے بے دخل کیا جارہاہے۔ اس بابت جناب ڈپٹی کمشنر صاحب سے میں نے بنفس نفیس ملاقات کی اور غریب محنت کش مزدوروں کی مشکلات سے ڈپٹی کمشنر صاحب کواگاہ کیا اور ان کے جائز مطالبات کے حل کرنے کی استدعا کی اور اگر حکومت انہیں روزگار مہیا نہیں کر سکتی تو کم از کم ان غریب لوگوں سے اپنا ذاتی روزگار نہ چھینے۔ ان کے اس روزگار سے نہ حکومت کو کوئی تکلیف ہے نہ ہی عام عوام اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ تا حال ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان غریب مظلوم محنت کش مزدوروں کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا۔ بلکہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ضلع مردان میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب کو شکایت کے ازالے کے لئے بار بار ٹیلی فون کرتا رہا مگر انہوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرا فون سننا مناسب نہیں سمجھا ڈپٹی کمشنر کے اس عمل سے نہ صرف میرا بلکہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہواہے، لہذا میری تحریک استحقاق کو متعلقہ کمیٹی کے حوالہ کیا جائے۔

Res No 86(S05-2024)

ہر گاہ کہ رنگ روڈ  پشاور کے ساتھ موجود زمین ہے وہ خلیل مومند قوم کی ہے جس پر PDAحکام غیر قانونی آپریشن کر رہے ہیں PDA کے ذمہ جو بقایاجات ہے وہ بھی ادا کئے جائیں اور مزید اگر زمین درکار ہے اس کا مارکیٹ ریٹ کے مطابق تعین کرکے ادائیگی کی جائے  تاکہ کسی سے نا انصافی نہ ہو ۔

  یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہPDA کے ذمہ رنگ روڈ کے جو بقایاجات ہے وہ پوری طورپر ان کو ریلیز کرے تا کہ خلیل مومند قوم کو اپنا حق مل جائے اور اس کے ساتھ آپریشن کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک درکار زمین کی  قیمت موجود ہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق تعین نہ ہو

Res No 82(S05-2024)

South Waziristan Upper, part of Khyber Pakhtunkhwa, is predominantly inhabited by the Mehsud tribe, which constitutes over 90/of the population .The current name lacks culture relevance and does not reflect the dominant identity of the region.

Therefore this house recommends renaming the district to Mehsud Tribal District to provide cultural recognition and align with the identity of the local population. This move is consistent with the renaming of other tribal district, such as Mohmand, Bajaur, and Orakzai which reflect their dominant tribes.

Res No 60 (S05-2024)

محکمہ اعلٰی تعلیم سے منسلک لیکچرارز اپنی خدمات بڑی ایمانداری اور خوش اسلوبی سےگذشتہ کئی  سالوں سے سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسرے صوبائی ملازمین کی طرح ان کو بھی مستقل کیا جائے۔تاکہ ان میں پائی جانے والے بےچینی ختم ہوسکے۔

         لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ دیگر تمام ملازمین کی طرح محکمہ اعلٰی تعلیم کےان  لیکچر ارز کو بھی مستقل کیا جائے ۔جو   (Functionalization of newly constructed  /Established Colleges Project)کے تحت اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

Res No 59 (S05-2024)

ہر گاہ کہ حکومت نے ستمبر 2022ء میں ٹوٹل 135 ڈاکٹر ز کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر  ایک سال کے لئے بھرتی کئے تھے جوکہ  ایک سال بعد ان کی ملازمت میں مزید ایک سال  توسیع دی گئی ا ور اب بھی اپنی خدمات بڑی ایمانداری اور خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے ہیں لیکن مذکورہ ڈاکٹرز کو جاب سیکورٹی حاصل نہٰیں جس سے ان میں بے چینی پائی جارہی ہے۔مزید براں حکومت نے ماضی میں کوویڈ  19 کے دوران بھرتی ہونے والے 720 ڈاکٹرز کو مستقل کیا ہے۔

     لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ دیگر ملازمین کی طرح 2022ء میں کنٹریکٹ  کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز کو مستقل کیا جائے۔

Res No 58 (S05-2024)

میں اس ایوان کی توجہ آج بارش کی وجہ سے پورے صوبہ خیبر پختونخوا باالعموم اور تحصیل بالاکوٹ ضلع مانسہرہ میں با لخصوص پید ا ہونے والے صورت حال کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں اور ایوان کی توسط سے صوبائی گورنمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس سلسلہ میں فوری اقدامات کئے جائیں اور روڈز خصوصاًشاہرا ہ کا غان فوری طور پر کھولی جائے مہا نڈری کے مقام پر بہہ جانے والے پل اور علاقہ منور میں دیگر پل جو سیلاب میں بہہ گئے ہیں کے متبادل انتظامات کئے جائیں اور ضلع مانسہرہ میں فوری طور پر Disaster, Management Cell کا Where Houseمستقل طور پر قائم کیا جائے تمام اداروں کو حکم دیا جائے کہ فوری طور پر ٹوریسٹ اور دیگر عوام کی نقل و حرکت کو ممکن بنایا جائے اور آئیندہ کے لئے ایسے واقعات سے نمٹنے کے لئے مستقل بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں اور جہاں جانی نقصان ہو ا ہے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے اور پورے صوبے میں Emergency Declare کی جائے۔

Res No 54 (S05–2024)

خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں جہاں معدنیات اوربالخصوص کوئلہ مائننگ کے حوالے سے جو طریقہ کار اور کان کنی میں جہاں ہزاروں لاکھوں افراد اپنی ذریعہ  معاش پیداکرتے ہیں وہاں بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر جو دہشتگردی کے اس جنگ میں بری طرح متاثر ہے۔ عوام کے گھربار، بازار اور کھیتی باڑی وغیرہ مکمل طور ختم ہو گئی ہے ۔وہاں ضلع خیبر میں کان کنی اور سب سے بڑی وافرمقدار میں ریچ فارمیشن کی حامل علاقے میں کوئلہ مائننگ پر کام بغیر کسی جواز کے بند رکھا گیا ہے۔

جناب سپیکر، اس وقت ضلع خیبر میں دو سو کے لگ بھگ کوئلہ مائننگ لیز کا اجراء کیا گیا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ضلع خیبر میں EL 04لائسنس جو کہ ڈی سی انتظامیہ جاری کرتی ہے تاحال بند ہے۔ لائسنس کی عدم اجراء کی وجہ سے نا صرف کوئلہ کمپنیوں کا لاکھوں نہیں، کروڑوں روپے کی انویسمنٹ نقصان کی طرف جا کر ڈوب رہی ہے۔ کوئلہ مائننگ کے علاوہ ضلع خیبر میں دیگر درجنوں کے حساب سے معدنیات کی بھاری کھیپ موجود ہےجس میں کرومائیٹ، لیڈ،کاپر، میگنیشیم، مائکا، پوٹاشیم، لیٹرائٹ، زنک آکسائڈ، کلسائیڈ اور بہت سی دیگر معدنیات کے قانونی حصول سے خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کا فائدہ با آسانی مل سکتا ہے۔ ای ایل 04 لائسنس کی اجراء کے لیے تمام لیز ہولڈرز کے لیے مروجہ طریقہ کار(SOP) بھی جاری کی جا چکی ہے لیکن بلاسٹنگ میٹریل استعمال کرنے کے لیے اجازت نہیں دی جا رہی۔ جناب سپیکر، ہمارا ضلع خیبر دہشتگردی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہےاور وہاں پر روزگار کرنے کے کوئی دیگر مواقع نہیں۔

    لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ ضلع خیبر کے تمام لیز ہولڈر کے لیے ای ایل 04 لائسنس کا اجرا کیا جائے اور وہاں کی تباہ شدہ معیشت کو دوبارہ فعال و بحال کر کے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کمانے کے لیے جلد ازجلد ہنگامی بنیادوں پر قابل حل اقدامات کو یقینی بنائیں۔

Res No 43(S05-2024)

سپیکر صاحب آپ کی توجہ ایک اہم خاص ایشو کی طرف مبزول کرانا چاہتاہوں ۔

محکمہ زکواةوعشر خیبرپختونخواہ کے کنٹریکٹ ڈیلی ویجز ملازمین اپنی خدمات بڑی ایمانداری اور خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے ہیں اور محکمہ میں ان ملازمین کا بڑی اہم رول ہوتاہے ۔محکمہ زکواة و عشر کے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز سینکڑوں ملازمین اس شدید مہنگائی کے دور میں بھی گزشتہ 13 مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہے جس کی وجہ سے ان ملازمین کے کچن بہت مشکل سے چلتے ہیں اور یہ ملازمین دوکانداروں کے بھی مقروض ہوچکے ہیں۔ اس میں ایسے کنٹریکٹ اور دیلی ویجز ملازمین بھی ہے جو گزشتہ 15 سال سے زائد عرصہ سے کام کررہےہیں  لیکن تاحال مستقل نہیں ہوئے جبکہ ان ملازمین کی عمر اب دوسری نوکری کے لئے بھی اہل نہیں ہے۔مذکورہ ملازمین سے کئی بار اپنے محکمہ نے تصدیق شدہ تعلیمی کوائف اور دیگر ضروری ڈاکمنٹس اکھٹے کئے اور ان کے ساتھ بار بار مستقل کرنے کے وعدےبھی کئے جا چکےہیں لیکن تاحال معاملہ وہی جوں کا توں پڑا ہو اہے۔

     حکومت سے گزارش ہے کہ محکمہ زکواة و عشر کے کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ ساتھ تمام ملازمین کو گزشتہ تمام مہینوں کی تنخواہیں  ریلیز کئے جائیں جبکہ ان مستقل کرنےکےلئے باضابطہ طور پر رولنگ دی جائےتاکہ متعلقہ محکمہ اس پر جلد عمل درآمد شروع کرسکے۔

Res No 41(S05-2024)

ہر گاہ کہ طلباء ملک کی ایک قیمتی اثاثہ ہے ۔سول سیکرٹریٹ پشاور میں بہت رش ہونے کی وجہ سے اگر طلباء کسی کام کے سلسلے میں سول سیکرٹریٹ پشاور آجائیں۔تو بہت زیادہ پریشان ہونے کے ساتھ بچارے کو تو پتہ ہی نہیں میرا کام جس محکمہ میں ہے کس سے پوچھو اور کدھر جاؤ۔

     لہذا یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ سول سیکرٹریٹ میں طلباء کے آسانی کے لئے سہولیاتی ڈسک قائم کی جائیں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت بچنےکے ساتھ ساتھ سہولت بھی میسر ہو اور وقت کے ساتھ اُن کے مسائل بر وقت حل ہو سکے۔

CAN No 59(S05-2024)

میں وزیربرائے محکمہ داخلہ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ  محکمہ پولیس کے ٹیلی کمیونیکیشن نے ریگولر پولیس سے مستقل بنیادوں پر سپاہی کے پوسٹ پر مختلف اضلاع سےملازمین ایڈ جسٹ کیے اور ان کو پروموشن کے لیے سب سے نیچے رکھا جس کی وجہ سے ضلع سے ان کی سنیارٹی ختم ہو کر ٹیلی کمیونیکیشن میں سب سے آخر میں سنیارٹی شروع ہوئی۔مگر اب 20، 25 سال نوکری کرنے کے بعد ان ملازمین کو دوبارہ سینیارٹی کے لیے اپنے اپنے اضلاع میں ریگولر پولیس میں بھیجا جارہا ہے جہاں پر ان کی سنیارٹی سب سے آخر میں شروع ہو گی اور اب اوور ایج ہونے کی وجہ سے ان کی پر موشن بھی نہیں ہو گی جبکہ ان کے ساتھ بھرتی شدہ دوسرے ملازمین میں سےاکثر  اب  سب انسپکٹرکےعہدوں تک  پر وموٹ ہو چکےہیں۔

CAN No 25 (S04-2024)

میں وزیر برائے محکمہ انتظامیہ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ محکمہ انتظامیہ کے افسران نے ملی بھگت سے نگران دور حکومت میں بغیر اہلیت کے غیر قانونی سرکاری گھروں کو الاٹ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سنیارٹی لسٹ کی پرواہ کیے بغیر چار پانچ لاکھ روپوں کے عوض الاٹمنٹ کی گئی ہے جبکہ پہلے سے سکین شدہ سابقہ افسران کےجعلی دستخط پر بھی سرکاری مکانات کومیرٹ کے بغیرexchangeکر دیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بہتی گنگا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2029 ٕمیں ریٹائرڈ ہونے والے افسران کے سرکاری گھروں /بنگلوں کی ایڈوانس الاٹمنٹ کی گئی ہے ۔اس مسئلے کوفوری  طور پر حل کیا جائے۔

CAN No 18(S04–2024)

میں وزیر  برائے محکمہ عملہ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں وہ یہ کہ2015ءمیں صوبائی حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت سرکاری منصوبوں کی میپنگ ،مانیٹرنگ اور شفافیت کیلئے GISپراجیکٹ کا اجراء  کیا ۔تجرباتی بنیادوں پر آٹھ اضلاع میں کامیاب تجربے اور شاندار کارکردگی کے بعد اس پراجیکٹ کو پی اینڈ ڈی سے قریبی مطابقت کی بنیاد پر منتقل کرکےایک Centralized Integrated GIS System قائم کیاجو سرکاری منصوبوں کی مستقل بنیادوں پر منصوبندی ،نقشہ سازی ،ADPسکیموں کی مانیٹرنگ اور سرکاری املاک کی Geo Taggingمیں اہم کردار اداکررہا ہے ۔پراجیکٹ کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں قائم GIS cellsڈپٹی کمشنرز صاحبان کو بھر پور معاونت فراہم کررہے ہیں اس منصوبہ کےتحت صوبہ بھر میں 53 ملازمین خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔پراجیکٹ PC-1کے مطابق اگر پراجیکٹ اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کررہاہو تو حکومت اس پراجیکٹ میں تعینات ملازمین کو مستقل کرے گی۔ پراجیکٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 9سال سے حکومت اس پراجیکٹ کو ہر سال  تو سیع دے رہی ہے اس لیئےاس پراجیکٹ میں تعینات ملازمین کو حسب وعدہ مستقل کیا جائے تاکہ وہ یکسوئی سے اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھ سکیں۔

Res No 20(S04-2024)

لیڈی ہیلتھ ورکرز محکمہ صحت گھر گھر جاکر سخت سے سخت حالات میں بھی اپنی ڈیوٹیاں احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہیں۔ہماری سابقہ حکومتوں نے مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین کو اپگریڈ کیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی خدمات ایمانداری و جانفشانی سے سر انجام دے سکیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمت قابل ستائش ہیں۔ اور وقت کی ضرورت ہے کہ ان کو بھی اپگریڈ کیاجائے۔

     اس لئے یہ اسمبلی صوبائی حکومت سے پُر زور سفارش کرتی ہے کہ دیگر تمام ملازمین کی طرح لیڈی ہیلتھ ورکرزکو اپگریڈ کیا جائے

Res No 13(S03-2024)

This Assembly resolves under sub rule (1) of rule 193 of the Provincial Assembly of Khyber Pakhtunkhwa Procedure and Conduct of Business Rules, 1988, that the Speaker Provincial Assembly may be empowered to constitute Standing Committees without holding elections.

This Assembly further resolves that sub rule (2) of rule 154 and sub rule (2) of rule 193 may be suspended under rule 240 and the Speaker may also be empowered to appoint chairmen to the Standing Committees as so constituted by him.

This Assembly also resolves that the Speaker may further be empowered to make changes in composition of Standing Committees in future as and when necessary.